خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 93

* 1949 93 خطبات محمود حوالہ دے کر مسلمانوں کو بتایا ہے کہ اے مسلمانو! یا درکھو تم کہیں یہ حماقت نہ کر لینا کہ ایک دفعہ مرکز سے نکل کر مرکز سے بے نیاز ہو جاؤ۔تم بغیر مرکز کے مت رہنا۔مکھی کتنی کم ترین اور ادنی چیز ہے۔یہ محض ایک بے عقل جانور ہے مگر باوجود اس کے کہ وہ ایک معمولی کیڑا ہے وہ مرکز کی ضرورت محسوس کرتی ہے۔اگر انسان جس کی حالت بہت اعلیٰ درجہ کی ہے ایک بہت بڑی مصیبت کے بعد بغیر مرکز کے رہنے پر راضی ہو جائے تو وہ کتنا کمینہ ہے، وہ کتنار ذیل ہے، وہ کتنا خدا تعالیٰ کو کھلانے والا ہے اور اس سے زیادہ ذلیل چیز دنیا میں اور کیا ہوگی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی دیکھو کہ جب تک آپ کو ایک دوسرا مرکز نہیں ملا آپ نے مرکز کو نہیں چھوڑا اور اُس کے ظلم کو برداشت کرتے رہے۔جب آپ نے دیکھا کہ مکہ میں رہنا نا قابل برداشت ہو گیا ہے تو آپ نے صحابہ کو جمع کیا اور فرمایا تم کسی اور جگہ چلے جاؤ جہاں دین کے بارہ میں ظلم نہ ہو اور تم امن سے خدا تعالیٰ کا نام لے سکو۔صحابہ نے آپ سے پوچھا یا رسول اللہ ! وہ کونسی جگہ ہے؟ آپ نے حبشہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا وہاں عیسائیوں کی حکومت ہے اگر تم وہاں چلے جاؤ تو تم پر دین کے بارہ میں سختی نہیں ہے ہوگی۔2 صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ! اگر ہم حبشہ کی طرف چلے جائیں تو آپ کا کیا حال ہوگا ؟ آپ کی نے فرمایا میرے لیے مکہ کو چھوڑنے کا حکم نہیں۔آپ جانتے تھے کہ حبشہ میں مرکز نہیں بن سکتا اس لیے آپ نے ملکہ نہیں چھوڑا جب تک کہ آپ کو خدا تعالیٰ کا حکم نہ ملا اور جب تک تقدیر الہی نے ایک نیا مرکز آپ کے لیے تجویز نہ کر دیا۔جس طرح مجھے قبل از وقت ایک نئے مرکز کی اطلاع اللہ تعالیٰ نے دے دی تھی۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے ظلم کو برداشت کیا، وہاں کی سختیوں کو جھیلا مگر خدا تعالیٰ نے جب تک نیا مرکز نہ تجویز کر دیا آپ نے مکہ نہ چھوڑا۔چونکہ آپ صاحب شریعت نبی تھے اور آپ کی شریعت میں کوئی وقفہ نہیں پڑنا چاہیے تھا اگر آپ کی شریعت میں وقفہ پڑ جاتا تو ایک بہت بڑی خرابی پیدا ہو جاتی اس لیے ضروری تھا کہ آپ کے مکہ چھوڑنے اور نیا مرکز ملنے میں وقفہ نہ ہوتا۔غیر شرعی نبیوں یا ان کے خلفاء کے لیے یہ ضروری نہیں۔پس ہماری جماعت کو یاد رکھنا چاہیے کہ انہیں ابھی ایک تجربہ ہوا ہے۔قادیان کے چھوٹے جانے کا صدمہ لازماً طبیعتوں پر ہوا ہے۔میری طبیعت پر بھی اس صدمہ کا اثر ہے لیکن میں نے نب قادیان چھوڑا یہ عہد کر لیا تھا کہ میں اس کا غم نہیں کروں گا۔میں نے پہلے بھی بتایا ہے کہ