خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 95 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 95

$1949 95 95 خطبات محمود کرنا نہیں چاہتا لیکن میں مختصر جواب دے کر اپنے جذبات پر قابو پانے کی کوشش کر رہا تھا۔پندرہ ہیں منٹ بعد جا کر کہیں میری طبیعت سنبھلی اور میں بات کرنے کے قابل ہوا۔غرض میں نے یہ عہد کیا ہوا ہے کہ میں قادیان کے چھوٹ جانے پر غم نہیں کروں گا اور میں سمجھتا ہوں کہ اس کے بغیر ہمارا گزارہ نہیں۔آپ لوگ بھی اپنے تمام جوشوں کو دباتے چلے جائیں۔خدا تعالیٰ وہ وقت لے آئے گا جب تمہارے دبائے ہوئے جذبات ایک طوفان کی شکل اختیار کریں گے اور وہ طوفان ہر قسم کے خس و خاشاک کو اُڑا کے پرے پھینک دے گا۔لیکن جب تک وہ مرکز جماعت کو نہیں ملتا سب جماعت کو ایک دوسرے مرکز کی طرف منہ کرنا ہوگا کیونکہ مرکز کے بغیر کوئی جماعت نہیں رہ سکتی۔پس میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ ہمیشہ اس بات کو مدنظر رکھیں کہ انہوں نے بے مرکز کے کبھی نہیں رہنا۔تمہیں ضرور ایک دھکا لگا ہے لیکن دھگوں کو سہنے کی عادت بہادر قوموں کو ڈالنی ہی پڑتی ہے اور ایسے دھکوں کے نقصان دور کرنے کے لیے عمدہ تدابیر اختیار کرنی پڑتی ہیں۔خدا تعالیٰ نے ایسے موقعوں کے مقابلہ کے لیے ایک تدبیر مرکز بنانے کی ہمارے سامنے رکھی ہے۔ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ جہاں ہم اور اچھی چیزوں کی نقلیں بناتے ہیں وہاں ہم روحانی مرکز کی نقل بھی بنایا کریں۔اگر ہم کسی ایک جگہ پر اپنا مرکز نہیں بنائیں گے تو لوگ دینی تعلیم کہاں حاصل کریں گے۔تم دیکھ لو سید احمد صاحب بریلوی کے مرید چند ہزار کے قریب تھے اور ہندوستان میں کئی کروڑ حنفی رہتا تھا۔ان کروڑوں آدمیوں کو طاقت نہیں ملی لیکن سید احمد صاحب بریلوی کے چند ہزار مریدوں نے ایک علیحدہ مرکز بنا دیا۔جب آپ شہید ہونے لگے تو آپ نے اپنے ساتھیوں کو فرمایا کہ وہ اپنا ایک مرکز بنا ئیں۔آخر انہوں نے دیوبند میں اپنا مرکز بنایا۔یہ سیداحمد صاحب بریلوی کے شاگرد ہی تھے جنہوں نے دیو بند میں اپنا مرکز بنایا اور پھر اس کی وجہ سے دیو بندی علماء نے تمام حنفیوں کو اپنے قبضہ میں کر لیا۔بعد میں وہ آہستہ آہستہ حنفیت کی طرف مائل ہو گئے لیکن اصل میں وہ اہلحدیث تھے اور صرف مرکزیت کی وجہ سے ہی باقی سب مسلمانوں پر غالب آئے۔پس تم کبھی بھی شہد کی مکھی کے سبق کو نہ بھولو تم یہ کبھی بھی خیال نہ کرو کہ تم تعداد میں کم ہو یا تم کمزور ہو۔ہر وقت کوئی نہ کوئی تمہارا مرکز بنا ہوا ہو۔تمہارے پاس پہلے بھی مرکز موجود ہیں۔مکہ،