خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 92

* 1949 92 خطبات محمود کہتے ہیں ذکر کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ انسان کو شہد کی مکھی کی طرف توجہ دلاتا ہے اور فرماتا ہے کہ تم شہد کی مکھیوں کو دیکھو یہ جانوروں میں سے بھی اعلیٰ قسم کا جانور نہیں بلکہ ایک ادنیٰ قسم کا کیڑا ہے۔مومنوں کے مقام تو بہت اونچے ہوتے ہیں یہ چھوٹا سا جانور ہے لیکن اس کا جو چھوٹا سا مقام خدا تعالیٰ نے بتایا ہے اس سے تم سبق حاصل کرو۔خدا تعالیٰ نے اس کیڑے کا ذکر بلا وجہ نہیں کیا۔آخر مسلمانوں کی پر ایسے حالات آنے والے تھے کہ ان کے لیے مکھی والی کیفیت اپنے اندر پیدا کرنی ضروری تھی۔ہے شہد کی مکھی میں یہ خصوصیت ہے کہ جب اس کے چھتے میں شہد پیدا ہو جاتا ہے اور کوئی شخص اس کے چھتا سے شہد نکالنا شروع کرتا ہے تو جو لوگ اس فن کے ماہر ہیں اور جنہوں نے شہد کی مکھی کی تاریخ ہے اور حالات کا مطالعہ کیا ہے وہ جانتے ہیں کہ جونہی وہ شخص شہد کے چھتوں پر ہاتھ ڈالتا ہے اُسی وقت نو جوان مکھیوں کی ایک پارٹی ایک شہزادی کو لے کر وہاں سے اُڑ جاتی ہے تا دوسرا مرکز تلاش کرے۔اور ابھی شہد اُس چھتا سے نکالا نہیں جاتا، ابھی شہد اُس چھپتا سے علیحدہ نہیں کیا جاتا کہ دوسرے مرکز کی تلاش میں چلی جاتی ہیں۔اور ابھی چوبیس گھنٹے بھی نہیں گزرتے یا بعض اوقات زیادہ سے زیادہ اڑتالیس گھنٹے بھی نہیں گزرتے کہ وہ دوسری جگہ پر چھٹا بنانا شروع کر دیتی ہیں۔یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ مکھیاں ہمیشہ ایک ملکہ کے ماتحت رہتی ہیں اور جب کوئی شخص شہد نکالنا چاہتا ہے تو وہ ملکہ کی لڑکی یعنی کسی شہزادی کے ماتحت اُڑ کر دوسری جگہ چلی جاتی ہیں۔گویا شہد کی مکھیوں میں بھی با قاعدہ حکومت کا طریق ہوتا ہے۔مکھیوں میں سے ایک پارٹی کسی ایک شہزادی کے ماتحت اُڑ کر کسی دوسری جگہ پر چلی جاتی ہیں اور وہاں چھتا بنانا شروع کر دیتی ہیں۔آخر کتنے چھتے ہیں جن کا شہد کی کھانے کا مکھیوں کو موقع ملا ہو۔آبادی کے قریب کے چھتوں میں سے تو کوئی ہزاروں میں سے ایک چھتا ہو گا جن کو خود مکھیاں کھاتی ہوں گی۔لیکن باوجود اس کے کہ مکھی جانتی ہے کہ ننانوے فیصدی امکان یہی ہے کہ یہ شہد میرے پاس نہیں رہے گا مکھی اپنے اس جذ بہ کو نہیں دبا سکتی کہ اسے اپنی ای زندگی کے لیے کسی ایک مرکز کی ضرورت ہے۔کسی مرکز کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتی۔باوجود اس کی کے کہ اس کا مرکز ٹوٹتا رہتا ہے، باوجود اس کے کہ وہ اپنا مرکز ٹوٹتا ہوا بار بار دیکھتی ہے، باوجود اس کے کہ اس کی نسل بھی جانتی ہے کہ اس کے ساتھ بھی یہی گزرے گی وہ ہمت نہیں ہارتی اور ایک نئے ارادہ کو لے کر کھڑی ہو جاتی ہے اور ایک نیا مرکز بنا لیتی ہے۔خدا تعالیٰ نے سورۃ نحل میں اسی مکھی کا