خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 70

خطبات محمود 70 70 * 1949 برتن میں اماں چھوٹے بچے کو پیچھی کرایا کرتی تھی۔اب میں گیا تو وہ ناراض ہوگی کہ تھالی کیوں نہیں لایا۔یہ لوگوں کا اپنے امام سے سلوک ہوتا ہے۔وہ نہیں جانتے کہ سب سے زیادہ معزز فرض یہ شخص ادا کر رہا ہے اور ہمارا کام یہ ہے کہ ہم اس کا احترام کریں لیکن بوجہ اس کے کہ اس کا معاملہ خدا تعالیٰ سے ہوتا ہے اور وہ دین کی خدمت کر رہا ہوتا ہے لوگ اُس کا ادب نہیں کرتے۔اور جب وہ امام کا ادب نہیں کرتے تو انہیں اس کے پیچھے نماز پڑھنے میں لذت کہاں آسکتی ہے؟ پھر شادی بیاہ کا زمانہ آتا ہے اُس وقت بچوں کو یہ سکھانا چاہیے کہ بیوی سے ایسا سلوک کیا جائے۔اس کی دلجوئی کا کس طرح سے خیال رکھا جائے ، اس کے رشتہ داروں کا کس طرح خیال رکھا جائے ، اُن کے ساتھ نرمی اور محبت کا کس کس رنگ میں سلوک کیا جائے مگر ہمارے ہاں اول تو ان باتوں کو سکھائیں گے ہی نہیں اور اگر ماں بڑا پیار کرے گی تو کہے گی ” میں نے اپنے بچے کو بڑے نازوں سے پالا ہوا ہے اب پتا نہیں وہ ڈائن آ کر کیا معاملہ کرتی ہے۔پھر اور زیادہ پیار آتا ہے تو ی ماں باپ کہتے ہیں دیکھو بچہ ! گر بہ کشتن روز اول بیویاں جوتوں سے سیدھی رہتی ہیں۔اگر پہلے دن ہی تم نے رُعب نہ ڈالا تو کام خراب ہو جائے گا۔یہ تربیت ہے جو ماں باپ اپنے بچوں کی ہے کرتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ” آوے کا آوا خراب ہو جاتا ہے۔بیویاں بھی خراب ہو جاتی ہیں، بچے بھی خراب ہو جاتے ہیں، محلے بھی خراب ہو جاتے ہیں، شہر بھی خراب ہو جاتے ہیں، ملک بھی خراب ہو جاتے ہیں۔66 پس تربیت کی طرف توجہ رکھنا ایک نہایت ہی ضروری چیز ہے۔ہر گھر میں اولاد کی صحیح تربیت کرنا ماں باپ کے فرائض میں داخل ہے۔جب وہ اپنے بچوں کی صحیح اور اعلیٰ تربیت کریں گے تو لازماً ایک ایسی نسل پیدا ہوگی جو اپنے بوجھوں کو آپ اٹھا سکے گی ، جو دوسری معزز قوموں کے سامنے اپنی گردن اٹھا کر بات کر سکے گی اور ان کی آنکھوں میں آنکھیں ملا کر بات کر سکے گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچپن سے ہی اولاد کی تربیت کا سبق دے کر صحابہ کو ایک ایسے رستہ پر چلا دیا تھا کہ وہ قوم جو ظاہری علوم سے بالکل نابلد تھی ایک نسل میں ہی دنیا کی معلم بن گئی۔اس لیے کہ ان کی اولادیں درست ہو گئیں اور اس وجہ سے ملکوں کے ملک ان کے آگے جھکنے پر مجبور ہو گئے۔یا تو وہ زمانہ تھا کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوی کیا اُس وقت کی