خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 71

$ 1949 71 خطبات محمود سارے مکہ میں سات اور بعض روایتوں کے مطابق گیارہ پڑھے ہوئے آدمی تھے اور یا آپ کی زندگی میں ہی وہ زمانہ آگیا کہ صحابہ قریباً سب کے سب تعلیم یافتہ تھے اور اگلی نسل کا یہ حال تھا کہ کتابیں پڑھ کر حیرت آتی ہے۔ایک شخص جوتیاں گانٹھ رہا ہے مگر ساتھ ہی ادب پر مقالہ لکھ رہا ہے، ایک ماہی گیر مچھلیاں پکڑ رہا ہے اور ساتھ ہی پرانے شعراء کے کلام پر جرح بھی کر رہا ہے۔جن پیشوں کو آج ذلیل سمجھا جاتا ہے انہی پیشوں سے وہ اپنی روزی کا بھی سامان پیدا کرتے تھے اور بڑے بڑے علوم بھی حاصل کرتے جاتے تھے۔اور جب ان پیشوں میں دن رات بسر کرنے والے اتنے بڑے بڑے عالم تھے تو جو لوگ علم کے لیے بالکل فارغ تھے اُن کے علم کا اندازہ لگانا کوئی مشکل نہیں رہتا۔اب تو بڑے سے بڑے انسان کی خدمت بھی بعض دفعہ عار سمجھی جاتی ہے لیکن ان مالی لوگوں کے ادب اور حصول علم کی خواہش کا یہ حال تھا کہ ایک عباسی خلیفہ نے اپنے دو بچوں کو ایک عالم کے پاس پڑھنے کے لیے بٹھایا۔ایک دن خلیفہ مسجد میں نماز کے لیے گئے تو ان بچوں کے استاد بھی اوپر سے آگئے اور انہوں نے مسجد میں داخل ہونے پر اپنی جوتیاں اتار دیں۔اس پر دونوں کی شہزادے امین اور مامون جو خود بھی بڑے پایہ کے تھے آگے بڑھے اور آپس میں جھگڑنے لگے۔ایک کہتا تھا میں جوتیاں اٹھاؤں گا اور دوسرا کہتا تھا میں جوتیاں اٹھاؤں گا۔بادشاہ نے یہ نظارہ دیکھا تو اس نے اپنے بچوں کو پیار کیا اور کہا کہ جس اخلاص کے ساتھ تم نے اپنے استاد کی جوتیوں کا خیال رکھا ہے اس سے میں سمجھتا ہوں کہ تم ضرور علم حاصل کر لو گے۔غرض علم کی قیمت کا احساس اور علم سکھانے والے کی عظمت کا احساس جب کسی انسان کے دل میں پیدا ہو جائے تو اس کے نتیجہ میں صرف تربیت کے لحاظ سے ہی اسے فائدہ نہیں ہوتا بلکہ اس کا علم بھی ترقی کرتا ہے۔یہ ایک قدرتی بات ہے کہ جس جنس کی قیمت زیادہ ہوگی تو لوگ اس کے کے پیچھے دوڑیں گے۔جب علم کی قیمت زیادہ پڑے گی تو لوگ اس کو حاصل کرنے کے لیے جد و جہد بھی زیادہ کریں گے اور اس طرح نہ صرف ان کے علم کا معیار ترقی کرے گا بلکہ ان کے عمل میں بھی نمایاں فرق پیدا ہو جائے گا۔پس دین کے سکھانے کی طرف ہماری جماعت کے تمام افراد کو پوری توجہ کرنی چاہیے۔ماں باپ کو بھی ، اساتذہ کو بھی، ائمہ کو بھی ، ہمسایوں کو بھی بلکہ ہر شخص جو اپنے اندر دین کا کچھ بھی