خطبات محمود (جلد 30) — Page 69
$1949 69 69 خطبات محمود ہے۔لیکن پنجاب میں میں نے دیکھا ہے ایسی باتیں بچوں کو سکھائی ہی نہیں جاتیں۔وہ بیشک آداب عرض کہہ دیتے ہیں یا شکر یہ کہہ دیتے ہیں لیکن اسلام نے اس غرض کے لیے جَزَاكَ اللهُ کا لفظ رکھا ہے۔ہم ان الفاظ کی بجائے جَزَاكَ الله کا لفظ سکھا دیں گے۔بہر حال چھوٹے چھوٹے آداب بچپن سے ہی بچوں کو سکھانے چاہیں تا کہ بڑے ہو کر یہ آداب ان کی طبیعت ثانیہ بن جائیں۔اسی طرح بچہ جب سکول جانے لگے تو اسے سکھانا چاہیے کہ استاد کا ادب اور احترام کرنا ضروری ہے، استاد کی خدمت کرنا ضروری ہے، استاد کی فرمانبرداری کرنا می ضروری ہے۔ہمارے ہاں علم کی کمی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ استاد کا ادب اور اس کا احترام کرنا بچوں کو سکھایا نہیں جاتا۔جس طرح ریل میں لوگ بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں سخت بھیڑ ہوتی ہے، اندر مزید آدمیوں کے آنے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی تو لوگ پھر بھی اندر داخل ہونے کی کوشش کرتے ہے ہوئے دوسروں کو دھکے دیتے اور کہتے ہیں تساں پیسے ودھ دتے ہوئے ہین اسیں پیسے نہیں دیتے“۔اسی طرح اساتذہ کا ادب کرنے کی اگر انہیں نصیحت کی جائے تو وہ کہتے ہیں اسیں فیس نہیں دیندے اوہ افسر کس گل دا ہے۔حالانکہ فیس اور علم کی آپس میں اتنی بھی تو نسبت نہیں جتنی ہے زمین اور آسمان کی ہے۔مگر جب ماں باپ ہی بچوں کے کان میں یہ بات ڈالتے رہیں کہ استاد ہمارا نوکر ہے تو استاد کا ادب اور احترام بچوں کے دلوں میں کہاں پیدا ہو سکتا ہے۔پھر بچہ نماز کو جانے لگے تو ماں باپ کا فرض ہے کہ وہ اسے امام کا ادب کرنا سکھائیں مگر یہ بات بھی نہیں سکھائی جاتی۔ہمارے ملک میں ایک واقعہ مشہور ہے نہ معلوم وہ سچ ہے یا جھوٹ مگر اس میں شبہ نہیں کہ پنجاب میں مولویوں کی ہتک کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔کہتے ہیں کوئی لڑکا ایک دن ملاں جی کے پاس کھیر لے کر آیا اور کہنے لگا میری اماں نے یہ کھیر آپ کے لیے بھجوائی ہے۔اس نے کہا تمہاری والدہ نے آج تک تو کبھی کھیر نہیں بھجوائی تھی آج اسے یہ کیا خیال آگیا کہ اس نے کھیر بھجوادی؟ لڑکا کہنے لگا اماں نے کھیر پکائی تو کتا منہ ڈال گیا۔اس پر اماں نے مجھے کہا کہ جاؤ اور ملاں جی کو یہ کھیر دے آؤ۔یہ سن کر اسے سخت غصہ آیا اور اس نے تھالی اٹھا کر زمین پر دے ماری۔تھالی مٹی کی تھی زمین پر گرتے ہی ٹوٹ گئی۔اس پر لڑ کا رونے لگ گیا۔مُلاں نے کہا تو روتا کیوں ہے؟ آخر یہ گتے کا جوٹھا تھا اور بہر حال اسے پھینکنا ہی تھا۔اس نے کہا روتا اس لیے ہوں کہ اس کی