خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 183 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 183

* 1949 183 خطبات محمود جاہلانہ مانگتا نہیں۔ایک مانگنا مصلحت کے مطابق ہوتا ہے اور ایک مانگنا مصلحت کے خلاف ہوتا ہے۔ایک بزرگ کے متعلق لکھا ہے کہ انہوں نے کسی سے پوچھا کہ تو کل کے کیا معنی ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ تو کل کے معنے یہ ہیں کہ جب خدا تعالیٰ دے تو انسان کھالے اور جب نہ دے تو صبر کرے۔وہ نادان صوفی تھا اور توکل کے صحیح معنے نہیں جانتا تھا۔انہوں نے کہا کہ یہ تو کل تو لگتے ہوے میں بھی پایا جاتا ہے۔گتے کو بھی مل جاتا ہے تو کھا لیتا ہے اور اگر نہیں ملتا تو صبر کرتا ہے۔انسان کا مقام تو پہلے ہی جانور سے بڑا ہے۔پھر ان معنوں کے لحاظ سے اس میں اور گتے میں کیا فرق ہوا؟ کی انسان تو اس لیے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ روحانیت حاصل کرے اور اللہ تعالیٰ کے قرب میں ترقی کرے۔پھر اس کے لیے تو کل کے وہ معنے کس طرح ہو سکتے ہیں جن میں ایک کتا بھی شریک ہے۔وہ حیران رہ گیا اور اس کا کوئی جواب نہ دے سکا۔اسی طرح میں کہتا ہوں کہ ابتلاؤں کے آنے پر ان کو برداشت کرنا کوئی اعلیٰ مقام نہیں بلکہ اس میں کافر اور بے دین لوگ بھی شریک ہیں۔ایک کافر کا بچہ بھی مر جاتا ہے تو بسا اوقات بڑے حوصلہ سے وہ اس صدمہ کو برداشت کرتا ہے۔پہلی جنگِ عظیم میں ہی ایک جرمن عورت جو 80 سالہ بڑھیا تھی اور جس کے سات بچے تھے اُس نے اپنے ساتوں بچے میدانِ جنگ میں بھیج دیئے۔اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کی مشیت کے ماتحت یکے بعد دیگرے اس کے بچے مرتے چلے گئے۔یہاں تک کہ اس کا صرف ایک بچہ رہ گیا۔آخر فرانس کے ایک شدید حملہ میں اُس کا ساتواں بچہ بھی مارا گیا۔قیصر یوں تو بہت ظالم تھا مگر نفسیات کا بہت بڑا ماہر تھا اور وہ اپنی قوم سے حقیقی محبت رکھتا تھا جس طرح ہٹلر اپنی قوم سے حقیقی کی محبت رکھتا تھا۔یہ دونوں لیڈر ظالم بھی تھے مگر اپنی قوم کے بچے عاشق بھی تھے۔چونکہ یہ رپورٹ نہایت اہم تھی کہ ایک عورت نے سات بچے دیئے اور وہ ساتوں کے ساتوں جنگ میں مارے گئے اس لیے جب یہ خبر پہنچی کہ اس عورت کا ساتواں بیٹا بھی مارا گیا ہے تو جرنیل نے اس خبر کو وزیر جنگ کے پاس بھیجا اور وزیر جنگ نے اس خبر کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اسے بادشاہ کے پاس بھجوا دیا۔بادشاہ نے حکم لکھا کہ جس طرح عام طور پر رشتہ داروں کو مرنے والوں کی اطلاع دی جاتی ہے ہے اس طرح اس عورت کو اطلاع نہ بھجوائی جائے بلکہ خود وزیر جنگ اس عورت کو اپنے سامنے بُلائے اور میری طرف سے اُس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہے کہ قیصر اور جرمن قوم دونوں اس ماں کا کی