خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 184 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 184

$ 1949 184 خطبات محمود شکریہ ادا کرتے ہیں جس نے اپنے ساتوں بیٹے ملک کے لیے تباہ کر دیئے ہیں۔چنانچہ اس بڑھیا کو شاہی پیغام پہنچا۔وہ وزیر جنگ کے پاس آئی۔وزیر جنگ نے اس کا استقبال کیا اور کہا مجھے قیصر کی طرف سے حکم ملا ہے کہ میں قیصر کی طرف سے اور جرمن قوم کی طرف سے آپ کا شکریہ ادا کروں کیونکہ آپ نے اپنے ساتوں بچے ملک کے لیے پیش کر دیئے تھے جن میں سے چھ تو پہلے مر چکے ہیں اور اب کل ہی تار کے ذریعے ہمیں خبر ملی ہے کہ آپ کا ساتوں بیٹا بھی جنگ میں مارا گیا ہے۔ایک انگریزی جاسوس جو اس موقع پر موجود تھا میں نے خود اُس کے ایک مضمون میں یہ واقعہ پڑھا ہے وہ کہتا ہے کہ یہ عجیب خبر سن کر اخبارات کے نمائندے وہاں جمع ہو گئے تھے جن میں میں بھی شامل تھا۔لڑائی کے ایام میں جاسوسی کرنے والے کسی دوسری قوم میں شامل ہو جاتے ہیں اور س طرح خفیہ طور پر حالات معلوم کرتے رہتے ہیں۔وہ اُس وقت ڈچ یا کسی اور قوم کے نمائندہ کے طور پر اندر آیا حالانکہ انگریزی جاسوس تھا۔وہ لکھتا ہے کہ بڑھیا اس خبر کو سُن کر باہر نکلی تو یوں معلوم ہوتا تھا کہ اس خبر نے اُس کی کمر کو بالکل توڑ دیا ہے لیکن وہ جذبہ حب الوطنی ظاہر کرنے کے لیے اپنی کمر پر ہاتھ رکھ کر اور زور سے دبا کر اُسے سیدھا کرنے کی کوشش کرتی تا کہ یہ ظاہر نہ ہو کہ ی اس غم نے اُس کی کمر کو خمیدہ کر دیا ہے اور پھر زور سے قہقہ لگا کر کہتی کیا ہوا اگر میرے ساتوں بیٹے مارے گئے ہیں۔آخر وہ اپنے ملک کی خاطر قربان ہوئے ہیں۔یہ ایک عیسائی عورت تھی۔ایک ظالم قوم کا فرد تھی اُس کے ساتوں بچے مارے گئے تھے اور پھر وہ 80 سال کی عمر کو پہنچ چکی تھی مگر پھر بھی اس نے صبر کیا۔پس مصائب اور آفات پر صبر کرنا ہرگز کوئی ایسی چیز نہیں جو مسلمان کا خاصہ ہو۔بلکہ صبر سے اوپر ایک اور مقام ہے جو مومن کو حاصل ہوتا ہے۔اور وہ یہ کہ وہ صرف صبر ہی نہیں کرتا بلکہ مصائب طلب کرتا ہے۔دنیا کوشش کرتی ہے کہ ابتلاؤں سے بھاگے مگر وہ کوشش کرتا ہے کہ اپنے ای آپ کو ابتلاؤں میں ڈالے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔در کوئے تو اگر سر عشاق را زنند اول کسے کہ لاف تعشق زند منم 5 اگر تیرے کوچہ میں جانے والوں کے متعلق یہ حکم ہو جائے کہ ہر شخص جو عاشقی کا دعوای