خطبات محمود (جلد 30) — Page 156
* 1949 156 خطبات محمود دنیا میں خرابی پیدا ہو جائے گی لیکن نیکی کے لحاظ سے ہم ترقی اُسی وقت کر سکتے ہیں جب کثرت پیدا ہو جائے۔غرض ہمیں اصلاح و ارشاد اور تعلیم و تربیت کے کام کی طرف زیادہ توجہ کرنی چاہیے۔میں دیکھتا ہوں کہ جماعت کی توجہ اس طرف بہت کم ہے۔اس کا بھاری ثبوت یہ ہے کہ سندھ میں دس دس بارہ بارہ سال سے رہنے والوں نے ابھی تک سندھی زبان بھی نہیں سیکھی۔کسی مالی ملک میں جا کر بس جانے والے پر اُس ملک کا سب سے پہلا حق یہ ہوتا ہے کہ وہ اس ملک کی زبان سیکھے۔اگر ہم اس ملک کی زبان نہیں سیکھتے تو ہم اس کے رہنے والوں کو اپنی باتیں پہنچا کس طرح سکتے ہیں۔یہاں پر پر انے پرانے رہنے والوں سے جب میں نے پوچھا کہ کیا تمہیں سندھی زبان ہے آتی ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا نہیں۔یہ بڑی بھاری غفلت ہے۔جس ملک میں کوئی شخص جاکر رہے اُسے چاہیے کہ وہ جلد سے جلد اُس ملک کی زبان سیکھے تا کہ وہ اُس ملک کے رہنے والوں سے تبادلہ خیالات کر سکے۔اگر وہ اس ملک کے رہنے والوں سے تبادلہ خیالات نہیں کر سکتا تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ اُن پر اپنا اثر نہیں ڈال سکے گا اور دوسرے لوگ یہ سمجھیں گے کہ وہ ان سے نفرت کرتا ہے۔میں جب انگلینڈ گیا تو اُس زمانہ میں مولوی عبدالرحیم صاحب نیر مبلغ تھے۔نیر صاحب مرحوم ایک دن میرے پاس آگئے اور کہنے لگے حضور ! لوگوں پر بہت بُرا اثر پڑ رہا ہے کیونکہ آپ نے شلوار پہنی ہوئی ہے اور یہ لوگ آپ کو ننگا خیال کرتے ہیں۔میں نے کہا پھر کیا ہوا۔یہ میرا لباس ہے۔اس میں حرج کیا ہے۔اگر لوگ مجھے نگا خیال کرتے ہیں تو کرنے دو۔نیر صاحب کہنے لگے حضور! اس بات کا ان پر بہت بُرا اثر پڑ رہا ہے۔میں نے کہا سردی کے خیال سے میں چند علیگڑھی فیشن کے گرم پاجامے ساتھ لے آیا تھا اور میری نیت تھی کہ میں یہاں آکر پہنوں گا لیکن اب وہ بھی ہے نہیں پہنوں گا۔ایک دن سرڈینی سن راس جو کچھ عرصہ ہندوستان میں بھی رہے ہیں مجھے ملنے کے لیے آئے۔اُن کے ساتھ ایک اور پروفیسر بھی تھے۔میں نے انہیں کہا آپ کے ساتھ میرے دوستانہ تعلقات ہیں۔آپ بتائیں کہ کیا آپ کو میرا یہ لباس بُرا لگتا ہے؟ وہ تکلف کے طور پر کہنے لگے نہیں یہ لباس تو بڑا اچھا ہے؟ میں نے کہا آپ تکلف نہ کریں، میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ آیا آپ کے ملک کے لوگ واقع میں اس لباس کو اچھا سمجھتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میرے ملک کے لوگ تو اس لباس کو بُرا سمجھتے ہیں۔میں نے کہا کیوں؟ انہوں نے کہا کہ اس لیے کہ یہ ہمارے ملک