خطبات محمود (جلد 30) — Page 134
$ 1949 134 خطبات محمود حاصل کرنے کا سوال ہے اُس حد تک تو واقعات کی رو میں فرق پایا جاسکتا ہے۔اگر وہ قربانی کریں تو وہ رتبہ اور عزت حاصل کر سکتے ہیں۔اگر نہ کریں تو تباہ و برباد بھی ہو سکتے ہیں۔لیکن جہاں تک اصل مقصد کا تعلق ہے وہ بدل نہیں سکتا۔وہ کام پورا ہو کر رہتا ہے خواہ ان کے ہاتھ سے ہو خواہ وہ ای کسی دوسرے کے ہاتھ سے۔ہمارا جو دعوای ہے اگر ہم اُس میں بچے ہیں تو ہم دوسری قسم کے کی لوگوں میں شامل ہیں۔ہمارے سپر د ایک ایسا کام کیا گیا ہے جو ہو تو جانا ہے۔ہم اپنی ذمہ داریوں کو ادا کریں تو عزت ہمیں مل جائے گی۔نہ کریں تو کوئی دوسری قوم اس عزت کو حاصل کر لے گی۔اور خدا تعالیٰ غافلوں کو تباہ و برباد کر کے دوسری قوم کھڑی کر دے گا جو اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرتے ہوئے اُس کام کو پورا کرے گی۔جب ایک نوکر اگر کام نہیں کرتا اور اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں سستی اور غفلت سے کام لیتا ہے تو آقا اُس کو گھر سے نکال دیتا ہے۔اس سے اُس کا کام تو بند نہیں ہو جاتا۔یا مثلاً سکول جاری کیے جاتے ہیں اگر کوئی مدرس کام نہیں کرتا تو اُسے نکال دیا جاتا ہے ہے۔اس سے پڑھائی تو بند نہیں ہوتی بلکہ دوسرا مدرس رکھ لیا جاتا ہے جو پہلے مدرس کی جگہ پر کام کرتا ہے۔غرض یا تو ہماری جماعت وہ کام کرے گی جو خدا تعالیٰ کی طرف سے اُس کے سپرد کیا گیا ہے اور یا ایک اور قوم کھڑی کر دی جائے گی جو خدا تعالیٰ کے حکموں کو بجالائے گی۔پس ہماری جماعت اگر یہ مضمون سمجھ لے کہ کام تو خدا تعالیٰ نے کرنا ہے لیکن عزت اُن کو ملے گی جو اس کام میں خدا تعالیٰ کا ہاتھ بن جائیں گے۔اگر وہ خدا تعالیٰ کا ہاتھ نہیں بنیں گے تو وہ انہیں باہر نکال کر پھینک دے گا۔تو یقیناً اس میں ایک سچی تبدیلی پیدا ہو جائے گی اور وہ کامیابی کے راستہ پر چل پڑے گی۔اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ جب وہ کام ضرور ہونا ہے تو وہ آپ ہی آپ ہو جائے گا ہمیں اس میں ہاتھ بٹانے کی کیا ضرورت ہے تو وہ احمق ہے۔وہ کام تو بیشک ہو جائے گا لیکن وہ اور اُس کی اولا د برباد ہو جائے گی۔یا اگر وہ سمجھتا ہے کہ بربادی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ اب وہ کام نہیں کر سکتا تو وہ بھی احمق ہے۔کام تو وہ ضرور ہو گا لیکن اُس کا منہ کالا ہو گا۔کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہ تغیرات نہیں ہوئے؟ جن لوگوں نے آپ کی مخالفت کی وہ کس طرح شرمنا ہوئے۔