خطبات محمود (جلد 30) — Page 135
* 1949 135 خطبات محمود پس آج بھی جو چیز دنیا کی نظروں میں ناممکن ہے وہ خدا تعالیٰ کے لیے آسان ہے۔بعض چیزیں جو دنیا کی نظروں میں عجیب ہوتی ہیں وہ خدا تعالیٰ کی نظر میں آسان ہوتی ہیں۔چنانچہ اب بھی جو تغیر دنیا میں پیدا ہونے والا ہے وہ خدا تعالیٰ کے لیے نہایت آسان ہے۔جواحمدی احباب اس کام کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور انہیں اخلاق فاضلہ حاصل ہیں اُن میں سے بھی ایک طبقہ ایسا ہے جو اپنی ذمہ داری کو نہیں سمجھتا۔بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ ہماری ترقی اُس وقت شروع ہو گی جب ہماری کثرت ہو گی۔کثرت کے بغیر بھی قو میں کام کرتی ہیں۔ہندوستان پر انگریزوں نے سینکڑوں سال حکومت کی۔انہوں نے کیا اپنی کثرت کی وجہ سے ی ایسا کیا؟ اُن کی تعداد چالیس پچاس لاکھ تھی اور چالیس کروڑ کے قریب ہندوستانی تھے۔گویا آٹھ سو ہندوستانیوں پر ایک انگریز تھا۔آٹھ سو بکریوں کو بھی ایک چرواہا قابو میں نہیں رکھ سکتا ، آٹھ سو گائیوں کے کو بھی ایک پرانے والا اپنے قابو میں نہیں رکھ سکتا، آٹھ سو اونٹوں کو بھی ایک پرانے والا اپنے قبضہ میں نہیں رکھ سکتا، آٹھ سو مُرغیوں کو بھی ایک آدمی نہیں پال سکتا، آٹھ سو چڑیوں کی بھی ایک انسان نگرانی نہیں کر سکتا۔پھر کتنی کمزوری تھی ہندوستانیوں میں اور کتنی خوبی تھی انگریز کیریکٹر کی کہ ایک انگریز آٹھ سو ہندوستانیوں کو جو اُس جیسے ہی سمجھ بوجھ والے تھے ، ایسی ہی عقل رکھتے تھے ایک گڈریا نی کی طرح نہ صرف چلایا بلکہ ایسی تنظیم اور قانون کے ماتحت چلایا کہ خود ہندوستانی بھی اور دنیا بھی حیران تھی۔اگر انگریز باوجود قلیل التعداد ہونے کے اپنے سے کثیر التعداد ہندوستانیوں پر حکومت کر سکتے ہیں تو احمدی اپنی خوبی اور حسنِ سلوک کی وجہ سے لوگوں کے قلوب پر کیوں حکومت نہیں کر سکتے ؟ میں نے پاکستان میں سینکڑوں آدمیوں سے یہ سُنا ہے کہ موجودہ حکومت سے انگریز کی حکومت بدرجہا بہتر تھی۔یہ لوگ معمولی درجہ کے نہیں تھے بلکہ ممبرانِ اسمبلی ، بڑے بڑے قومی لیڈر اور اخباروں کے ایڈیٹر تھے۔میں تو اُن سے متفق نہیں ہوں۔خدا تعالیٰ نے یہ حکومت ہمیں دی ہے اور یہ بہر حال ہمارے لیے بہتر ہے۔ہاں! نا تجربہ کاری کی وجہ سے بعض تکلیفیں پہنچ جاتی ہیں لیکن وہ عارضی ہیں۔سب سے بڑی چیز یہ ہے کہ اب خدا تعالیٰ نے ہمارے ہاتھ کھول دیئے ہیں۔اب ہمیں کسی سے تکلیف پہنچے تو ہم اُس کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔پنجرے میں پڑا ہوا جانور چاہے تو آپ