خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 1 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 1

لاضحی فرموده ۱۲ دسمبر شاه بمقام قادیان) اَشْهَدُ أَنْ لا إلهَ إلا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَاشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ - أَمَّا بَعْدُ فَاَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَلَقَدْ خَلَقْنَا الإِنسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِهِ إِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيْنِ عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ تَعِيْدُه مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدُه وَجَاءَتْ سَكَرَةٌ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ، ذلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَجِيدُه وَنُفِخَ فِي الصُّورِهِ ذَلِكَ يَوْمُ الْوَعِيدِهِ وَ جَاءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَعَهَا سَائِقٌ وَشَهِيدَهُ لَقَدْ كُنتَ فِي غَفْلَةٍ مِنْ هَذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَاءَكَ فَبَصَرُ كَ الْيَوْمَ حَدِيدَه وَقَالَ قَرِيتُهُ هَذَا مَا لَدَيَّ عَبْدُهُ الْقِيَا فِي جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارِ مَنِيْدِهُ مَتَاعِ لِلْخَيْرِ مُعْتَدٍ قَرِيبِ الَّذِي جَعَلَ مَعَ اللهِ إلهَا أَخَرَ فَالْقِيةُ فِي الْعَذَابِ الشَّدِيدِهِ قَالَ قَرِينُهُ رَبَّنَا مَا اطفَيْتُهُ وَلَكِنْ كَانَ فِي ضَلَلٍ بَعِيدِهِ قَالَ لَا تَخْتَصِمُ وَ الدَى وَ قَدْ قَدَّمْتُ إِلَيْكُمْ بِالْوَعِيدِهِ مَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَى وَمَا أَنَا بظلام للعيد رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عام طور پر عیدین میں سورہ ق ، سورہ جمعہ سورہ مومنون ، سوره غاشیہ ان سورتوں کو پڑھا کرتے تھے کہیے اس نسبت سے کہ ان سورتوں میں خصوصیت کے ساتھ اجتماع کے واقعے مذکور ہیں۔فطرتا ہر شخص اپنے عیوب ظاہری و باطنی کو پوشیدہ رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔بخلاف اس حالت کے کہ جب مکان میں اپنے خلوت میں ہوتا ہے تو بڑی بے تکلفی سے رہتا ہے۔کچھ اپنے عیوب اور نقائص کی پرواہ نہیں کرنا۔مگر جب مجلسوں میں ہوتا لا عید (یوم النحر کا خطبہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے پڑھا۔جو ہدیہ ناظرین کیا جاتا ہے۔د محمد صادق علی اللہ عنہ ایڈیٹر بدکر"