خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 2 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 2

ہے تو بڑا محتاط ہرامر میں اپنے آپ کو بناتا ہے ڈرتا ہے کہ مبادا کہیں میرا کوئی نقص کسی پڑنا ہر موجا یہ ایک فطری تقاضا ہے۔جو ہر انسان کی طبیعت میں ہوا کرتا ہے۔بعض انسانوں کو تخلیہ میں اگر کچھ نصیحت کرو تو وہ اُسے خاموشی سے سنتے ہیں۔مگر وہی نصیحت کی باتیں ان کو تب مجلس میں سنائی جاویں تو اس کو برا مناتے ہیں اور سُننا پسند نہیں کرتے۔سورۂ ق میں جو ایک خاص غرض ہے اس کو ئیں انشاء اللہ بیان کروں گا۔عید کے دنوں میں عام طور پر زیادہ سے زیادہ دو تین لاکھ انسانوں کا مجمع ہوتا ہے۔مگر یہ وزقیامت اولین و آخر ین کا اجتماع ہوگا۔اور وہاں وجَاءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَعَهَا سَائِقٌ وَشَهِيدٌ کا نظار ہوگا۔اور وہاں یہ دیکھا جاوے گا کہ لباس التقونی سے مز تین ہو کر کون آیا ہے۔اور اس لباس تقوی پر کس کس کے عیب دار داغ پڑے ہوئے ہیں۔اور کس کے نقوی کے کپڑے بے عیب اور میل کچیل سے پاک صاف میں کیا کیسی ذلت کی بات ہے کہ وہاں دوست دشمن خویش و اقارب اور ماں باپ سب حاضر ہوں گے بھیجو کچھ بدی دنیا میں کسی نے یہاں کی ہوگی وہ تمام اولین و آخرین کے سامنے ظاہر ہونے لگے گی۔اور متعین قرین بھی شہادت دے گا۔کہ هُذَا مَالَدَيَّ عَتِيدٌ پھر وہاں بخشی بھی ہونے لگیں گی مجرم اپنی بریت ظاہر کرنے کے لئے خیلے حوالے کرنے لگے گا اور پر پھینکنا چاہے گا۔آگے سے قرین یوں کم کر رد کرے گا۔رَبَّنَا مَا طَغَيْتُهُ ولكن كان في خللٍ بَعِيد - پروردگار احکم الحاکمین کی جناب سے یوں فیصلہ ہوگا کہ یہ وقت بحث مباحثات کا نہیں ہے۔لا تختص مُوَالدَيَّ وَقَدْ قَدَّمْتُ إِلَيْكُمْ بِالْوَعِيد اور ارشاد ہوگا کہ ہم نے پہلے ہی سے نذیر بھیج کہ آج کے دن کی مصیبت سے تم کو آگاہ کر دیا تھا۔مَايُبَدِّلُ القَولُ لَدَيَّ وَمَا أَنَا بِظَلام للعبید۔فیصلہ کرتے ہیں کسی پر فلم نہیں کروں گا۔میرے حضور میں چالاکیوں سے جو حق الامر ہے اس میں تبدل و تغیر راہ نہیں پاسکتی۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے کہ یوم الجزار اور استماع عظیم کے دن کے لئے لباس التقوی سے مزین ہو کر دنیا سے جاویں اور اپنے پروردگار سے پاک وصاف میں۔آمین ثم آمین بقدر داد تا رو براش امت الزام دوسرے سے ۱۷:۵۰ تا ۳۰ ه - جامع ترندی کتاب العيدين باب القراءة في العيدين صحيح مسلم كتاب الصلوة باب القراءة في الجمعة (غالباً سهو كتابت کی وجہ سے سورہ مومنون لکھا گیا ہے۔یہ دراصل سورہ منافقون ہے۔تمام روایات اسی پر متفق ہیں ، ے۔صحیح بخاری کتاب الانبسیار باب يزفون النسلان في المشي۔تغیر در منشور جلد ۳ صت زیر آیت لباس التقولى ذلك خير شه بود ۱۰۴:۱۱