خطبات محمود (جلد 2) — Page 354
۳۵۴ ہوتی ہے ۔ ہے۔ تو وہ کہتا ہے آخر وہ میرا بھائی ہے اور بھائی کی خوشی سے مجھے خوشی ہوتی بہر حال ہمیں ہر جگہ یہ بات نظر آتی ہے کہ کسی کا خیز یا دوست کسی بات میں کامیابی حاصل کرتا ہے تو اس کو بھی خوشی ہوتی ہے۔ پس عید کی دوسری وجہ یہ ہوئی کہ اگر چہ ہمیں حج نصیب نہیں ہوا لیکن ہمارے کچھ بھائیوں کو حج نصیب ہوتا ہے اور جس طرح ایک نانبائی کے بھائی کو ڈگری ملتی ہے تو وہ خوش ہوتا ہے اور وہ یہ نہیں کہنا کہ ڈگری میرے بھائی کو ملی ہے مجھے کیا فائدہ ؟ ایک نجار اپنے بھائی کی کامیابی یا عہدے میں ترقی پر خوش ہوتا ہے اور یہ نہیں کہتا کہ کامیابی میرے بھائی کو ہوئی ہے یا ترقی میرے بھائی کو ملی ہے مجھے کیا فائدہ ؟ اسی طرح آج مسلمان اس لئے عید مناتے ہیں کہ ان کے کچھ بھائیوں کو چ نصیب ہوا ہے۔ اور پھر جہاں کسی کو خوشی کا موقعہ ملتا ہے ۔ وہاں اس کے اندر یہ جار بھی ہوتا ہے کہ مجھے بھی کل کو یہ خوشی نصیب ہو۔ جب انسان اپنے بھائی کی خوشی پر خوش ہوتا ہے تو وہ یہ نہیں کتنا کہ میں یہ کام نہیں کروں گا۔ بسا اوقات وہ اس کی خوشی میں اس لئے شامل ہوتا ہے کہ وہ یا تو وہ کام کر چکا ہوتا ہے یا اسے امید ہوتی ہے کہ میں بھی یہ کام کروں : بوں جب اس کے بھائی کو کامیابی ہوتی ہے تو وہ یہ نہیں کہتا کہ میرے بھائی کو یہ موقع ملا ہے مجھے یہ مجھے یہ موقع نہ ملے۔ بلکہ اس کے ر اس کے اندر یہ جذبہ یہ جذبہ پنہاں ہوتا ہے کہ یہ ہوتا ہے۔ کہ یہ چیز مجھے مل چکی ہے ۔ خدا کرے آئندہ کسی وقت مل جائے ۔ یا پس یہ عید اس طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ اپنے بھائیوں کو دیکھ کر ہمارے اندر بھی حج کرنے کا جذبہ پیدا ہونا چاہیئے۔ جہاں اپنے بعض بھائیوں کو حج نصیب ہونے کی خبر شنکر نہم خوشش ہوتے ہیں ، وہاں ساتھ ہی ہمیں یہ خیال بھی کرنا چاہیئے کہ ہم کیوں حج نہ کریں ۔ ہمارے اندریہ خوات پیدا ہونی چاہئیے کہ خدا تعالے ہمیں بھی حج کا موقع دے۔ مگر افسوس کہ حج کی طرف سے لوگوں کی توجہ سہٹ گئی ہے ۔ بہت کم لوگ ہیں جو حج کے لئے جاتے ہیں اور اس سے ہماری جماعت بھی مستثنی نہیں ۔ ہماری جماعت کے افراد بھی بہت کم تعداد میں حج کے لئے جاتے ہیں حالانکہ جو پر آنا ۔ دیہ خرچ نہیں ہوتا جتنا روپیہ تم میں سے بعض زمیندار اپنے بچوں کی شادیوں پر خرچ کر دیتے ہیں اور اس قسم کے زمیندار جماعت میں سینکڑوں کی تعداد میں موجود ہیں۔ آجکل کے حالا ہے مطابق جس شخص کے پاس دو مربعے زمین ہے وہ ۵-۱۰۰۰ ہزارہ روسیہ سالانہ تک کھاتا ہے جیب لوگ مشورہ کے لئے آتے ہیں تو کہتے ہیں لڑکی کی شادی کے لئے تنے ہزارہ روپیہ متبع کیا ہے اور اس قدر اُدھار لے لیا جائیگا۔ وہ زمیندار جن کے پاس دو دو تین تین مریے ہیں جماعت میں کنکر دیں کی تعداد میں موجود ہیں اور وہ سینکڑوں ایسے ہیں جن پر حج فرض ہے ان میں سے ہر ایک اپنے بیٹے یا بیٹی کی شادی پر اس قدر روپیہ خرچ کر دیتا ہے جس سے بہت کم روپیہ حج پر خرچ ہوتا