خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 353 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 353

۳۵۳ اور ایک خبر لائی ہے کہ اسلام کی رگوں میں اب بھی خون چل رہا ہے۔اب بھی محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عشق رکھنے والے لوگ دین کے مرکز مکہ مکرمہ میں جمع ہوئے ہیں۔اور انہوں نے اپنے اس تعلق کا اعلان کیا ہے جو انہیں آپ سے ہے انہوں نے اس بات کی شہادت دی ہے کہ چاہے کمزو رہی سہی لیکن آپ کے نام لیوا اب بھی دنیا میں موجود ہیں تو دیکھو یہ کتنی خوشی کی بات ہے۔اگر کوئی شخص ہم سے کسی کے ماں باپ کی خیریت کی خبر لاتا ہے تو وہ کہتا ہے الحمد لله توجب یہ بعید ہمارے پاس اسلام کی زندگی کا ثبوت لائی ہے تو ہم کیوں نہ سجدوں میں گر جائیں کیوں نہ ہم خدا تعالے کا شکر بجالائیں کہ ابھی قومی زندگی کی رگ پھڑک رہی ہے ابھی ہماری قومی زندگی کا سانس چل رہا ہے۔ابھی رسول کریم صل اللہ علیہ و آلہ وسلم سے وفاداری کا دم بھرے والے دنیا میں موجود ہیں۔ابھی مسلمان وحدت کے مرکز پر قائم ہیں۔دوسری چیز جس کی خبر یہ عید لائی ہے وہ حج ہے یہ عید ہمیں بتاتی ہے کہ ہمارے کچھ بھائیوں کو جج نصیب ہوا ہے کسی بھائی کا بیاہ ہوتا ہے تو وہ خوش ہوتا ہے کیسی کے ہاں بھائی پیدا ہوتا ہے تو وہ خوش ہوتا ہے کسی کی بہن کے ہاں بیٹا پیدا ہوتا ہے تو وہ خوش ہو رہا ہوتا ہے۔کسی کے بھائی کے ہاں بیٹا پیدا ہوتا ہے تو وہ خوش ہو رہا ہوتا ہے۔تم سے اگر کوئی یہ سوال کرے کہ بیٹا تو تمہاری والدہ کے ہاں پیدا ہوا ہے تم کیوں ہنس رہے ہو۔بیٹا تو تمہارے باپ کے ہاں پیدا ہوا ہے تم کیوں خوش ہو رہے ہو۔بیٹا تو تمہاری بہن کے ہاں ہوا ہے تمہیں خوشی کیوں ہے۔بیٹا تو مہارے بھائی کے ہاں ہوا ہے یا بیٹیا تو تمہارے چچا کے ہاں ہوا ہے تم خواہ مخواہ کیوں سہنس رہے ہو تو تم میں سے ہر ایک یہ جواب دیگا کہ واہ کیا ان کی خوشی میری خوشی نہیں کیا میرے ماں باپ کے ہاں بیٹا ہوا ہے تو میں ان کی خوشی میں شریک نہیں اگر میں اپنے بھائی کی خوشی میں شریک ہوا ہوں تو کیا وہ میرا بھائی نہیں، اگر میری بہن کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے توئیں کیوں خوشی نہ مناؤں ؟ کیا وہ میری بہن نہیں۔اس کی خوشی کی وجہ سے مجھے کیوں خوشی نہ ہو۔پس دنیا میں یہ ثابت شدہ حقیقت ہے کہ بھائی بھائی کی خوشی سے خوش ہوتا ہے۔ایک بھائی کامیابی حاصل کرتا ہے تو دوسرا بھائی بھی خوش ہوتا ہے۔ایک بھائی بنجاری کا کام سیکھ رہا ہوتا ہے اور ایک تعلیم حاصل کر رہا ہوتا ہے۔لوگ کہتے ہیں۔میاں ! اگر تمہارا بھائی بی۔اسے ہو گیا ہے تو تم خوش کیوں ہوتے ہو، تم نے تو ساری عمر سکر یہاں چیرنی ہیں۔ایک بھائی نانبائی کا کام کرتا ہے اور وہ آگ کے سامنے جھلس رہا ہوتا ہے تو دوسرا بھائی ڈاکٹرین رہا ہوتا ہے یا اپنے عہدے میں ترقی پا رہا ہوتا ہے، تو وہ نانبائی بھی اپنے بھائی کی کامیابی پر خوش ہوتا ہے۔اگر کوئی پوچھے کہ میان تمہارے لئے خوشی کی کیا بات ہے؟ تم نے تو آگ میں جھلسنا۔