خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 355

1 ۳۵۵ اور غیر احمدیوں میں تو اس کی کوئی انتہاء نہیں۔ان میں لاکھوں نہیں کہ وڑوں لوگ ایسے ہیں جن پر جمع فرض ہے لیکن انہوں نے حج نہیں کیا۔پھر ایسا شخص جس کی تنخواہ چار پانچ سو روپیہ ماہوار ہو اس پر بھی حج فرض ہے۔اور اس قسم کے آدمی بھی ہماری جماعت میں سن کر اپ کی تعدا د میں ہیں مگر کتنے ہیں جنہوں نے حج کیا ہے ؟ تم بہت کم لوگ ایسے دیکھو گے جن پر حج فرمن تھا اور انہوں نے حج کیا۔جماعت میں سے یہی پانچ دس پندرہ میں آدمی ہر سال حج کے ئے جاتے ہیں تعداد ایسی نہیں جس کے متعلق یہ خیال کیا جائے کہ کافی ہے۔بیرون عرب سے چالیس پچاس ہزار کے قریب لوگ حج کے لئے جاتے ہیں۔رپورٹیں تو بہت زیادہ تعداد کی آتی ہیں لیکن ان میں مبالغہ ہوتا ہے۔حقیقت یہی ہے کہ مہند وستان و پاکستان سے ۱۵ ۲۰ ہزارہ آدمی حج کے لئے ہر سال جاتا ہے۔دس بیس ہزارہ آدمی انڈونیشیا سے جاتا ہے ۱۵ ۱۶ ہزارہ آدمی جنہیں پچاس ہزار کہہ دیا جاتا ہے۔مصر سے جمع کے لئے جاتا ہے یہ کل ملا کہ پچاس ساٹھ ہزار آدمی ہو جاتا ہے۔اور لاکھ ڈیڑھ لاکھ کے قرین شام غرب اور عراق اور خود مکہ سے شریک ہو جاتا ہے۔اس لئے ڈیڑھ دو لاکھ کی تعداد بن جاتی ہے اور اگر زیاد کامیابی ہو تو دو اڑھائی لاکھ کی تعداد حاجیوں کی ہو جاتی ہے۔لیکن دنیا میں چالیس کروڑ کے قریب مسلمان ہے۔اگر سو میں سے ایک آدمی حج کے قابل سمجھا جائے تو چالیس لاکھ کے قریب لوگ یج کے قابل بنتے ہیں اور اگر یہیں سال کی عمر بھی حج کی سمجھ لی جائے اور یہ سمجھ لیا جائے کہ یہ زمانہ ایسا ہے کہ انسان کے پاس سفر کے لئے روپے جمع ہوتے ہیں اس کی صحت ایسی ہوتی ہے کہ سفر کرے تو گویا دو لاکھ آدمی حج کے لئے سالانہ جانا چاہیئے۔لیکن اتنی تعداد مسلمانوں کی حج کے لئے نہیں جاتی اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے مکہ اور شرب والوں کو ملا کر ڈیڑھ دو لاکھ حاجی ہر سال حج کے لئے جاتا ہے جن میں سے بیرون عرب کے صرف ۵۰-۲۰ ہزار حاجی ہوتے ہیں۔اگر پاکستان کو سی لیا جائے تو اس میں 4 کروڑ سے زیادہ مسلمان ہیں۔اس طرح لاکھ آدمی حج کے قابل بنتے ہیں۔اور اگر نہیں سال کی عمر حج کے قابل سمجھ لی جائے تو قریباً تیس ہزار کادمی سالانہ پاکستان سے حج کے لئے جانا چاہیئے تب کہیں جا کہ حج کے قابل آدمی کا حساب پور را بردیا ہے لیکن جاتے صرف بارہ تیرہ ہزار ہیں۔پھر بڑی مشکل یہ ہے کہ جو لوگ پاکستان سے حج کے لئے جاتے ہیں یا جو لوگ افریقہ اور مصر وغیرہ سے حج کے لئے آتے ہیں وہ سو فیصدی ایسے نہیں ہوتے جن پر صحیح شرعی طور پر فرض ہوتا ہے۔ان میں سے ۸ فیصدی ایسے ہوتے ہیں جن پر حج فرض نہیں ہوتا۔صرف وہ ایمان کی وجہ سے حج کے لئے چلے جاتے ہیں۔جس سال میں نے حج کیا ہے اس سال کا ایک واقعہ ہے۔ایک آدمی میرے پاس کچھ مدد مانگنے کیلئے آیا