خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 179

169 انعام دنیوی حکومتوں کی طرف سے نہیں ہوتے کہ کسی کو نشن پر بھیجنے لگے تو ، تو کپتان بنا دیا۔ اس کپتان کا مطلب نہیں ہوتا کہ جاؤ اور لڑو۔ بلکہ یہ مطلب ہوتا ہے کہ جاؤ آرام سے گھر میں بیٹھو لیکن اللہ کی طرف سے جو انعام آتے ہیں وہ سیسم، روح ، دل دماغ غرضیکہ ہر چیز کی قربانی چاہتے ہیں اور جب تک انسان سب کچھ اس کے سامنے نہیں ڈال دیتا ۔ اور اپنے آپ کو معدوم کرنے کی کوشش تعالے اس و بیوی بھی ا نہیں کرتا اس وقت تک اللہ تعالے یہ نہیں سمجھتا کہ اس نے انعام کا بدلہ دیدیا ہے۔ مجھے اس مضمون کی طرف ایک رویا سے بھی تحریک ہوتی ہے۔ جو چند روز ہوئے میں نے دیکھا تھا میں نے دیکھا کہ کوئی شخص باہر سے آیا ہے اور اس کی بیوی اور ملازم بھی ساتھ ہیں الیسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی آسودہ حال آدمی ہے۔ بعض مسائل پوچھتا اور اس کے بعد اطمینان حاصل کہ کے سلسلہ میں داخل ہونا چاہتا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پہلے وہ کچھ باتیں مجھ سے یا سلسلہ کے علماء کے ساتھ کر چکا ہے میں نے اسے بڑے کمرے میں جہاں میں ملاقاتیں کرتا ہوں بٹھایا اور جیسا کہ میرا قاعدہ ہے کہ سوائے اس وقت کے کہ ملنے و ملنے والے پتلون وغیرہ پہنے ہوں فرش پر ہی بیٹھتا ہوں وقت بھی فرش پر ہی بیٹھا ہوں ۔ ان کے دو ملازم آئے اور ان کے دو ملازم آئے اور کوچ پر یٹھ گئے ہیں اس ۔ کئے ہیں اس کے بعد ان کی آگئی جو جور مصری یاشامی آزاد تعلیم یافته ہفتہ عورتوں کی طرح سیاہ رنگ کا برقعہ اوڑھے ہے جس میں منہ ناک آنکھیں ننگی ہیں ، سر بال اور گردن وغیرہ ڈھکی ہوئی ہے۔ پھر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مرد پورے طور پر سمجھ چکا ہے اور عورت سمجھنا چاہتی ہے وہ آدمی کہتا ہے کہ میری بیوی بھی سوال کرنا چاہتی ہے ۔ اور اس کی خواہش ہے کہ اُسے روحانی ترقی کے گر بتائے جائیں ۔ تصوف کی طرف اس کا میلان معلوم ہوتا ہے۔ اور صوفیاء کا جیسا قاعدہ ہے کہ وہ ہے کہ وہ بعض اصطلاحات بولتے ہیں۔ مثلاً مومن کو پرندہ کہتے ہیں معلوم ہوتا ہے کہ اس عورت نے بھی کوئی ایسی اصطلاحیں بنائی ہیں۔ اس کا خاوند میرے کان میں کہتا ہے کہ اس کی خواہش ہے میں روحانی پٹواری بن جاؤں ۔ چونکہ میں سمجھ گیا ہوں کہ اس کا میلان تصوف کی طرف ہے اس لئے اس لفظ کے سننے سے مجھے تعجب نہیں ہوتا اور یکی سمجھتا ہوں کہ جس طرح پٹواری زمینوں کی پیمائش کرتا ہے، لوگوں کے حقوق کی نگرانی کرتا ہے ، مالیہ مقرر کرتا ہے، اسی طرح اس کی خواہش ہے کہ میں ایسے مقام پر پہنچ جاؤں کہ دوسرں کی نگران ہو جاؤں اور میں یہی مفہوم سمجھتا ہوں ۔ عورت چونکہ کچھ فاصلہ پر ہے وہ کبھی ذرا اونچی آواز سے کہتی ہے کہ میں چاہتی ہوں ۔ میں پٹواری بن جاؤں اس پر اس کا خاوند جھک کر کہتا ہے کہ پیچھے جیون بھاں بیٹھا ہے ، یہ لفظ نہ بولو۔ گویا ان دو نوکروں میں سے ایک جو میری پشت کی طرف بیٹھا ہے جیوں خان ہے۔ دوسرا نو کر جیون خان کے پاس میرے پیچھے فدا بائیں طرف کو بیٹھا ہے اس پر وہ آہستہ سے کہتی ہے کہ میں چاہتی ہوں کوئی روحانی مقام حاصل کروں اور پھر آہستہ سے پٹواری