خطبات محمود (جلد 2) — Page 178
منظور کر لیا جائے ۔ بادشاہ نے کہا کہ ناراض تو میں اس پر ہوا ہوں تم کیوں روتے اور استعفیٰ دے رہے ہو یشبلی نے کہا کہ اس پر آپ کی نار اھنگی نے میری آنکھیں کھول دی ہیں ۔ اس شخص نے اپنی جان کو قربان کر کے آپ کے لئے ملک فتح کیا ۔ وہ ہر رو نہ اپنی بیوی کو ہو گی اپنے بچوں کو تیم اور اپنی جان کو ہلاکت کے خطر د میں ڈالتا تھا ۔ وہ ہر روزہ آپ کے لئے موت کے منہ میں جاتا اور اپنی جان کو موت کے لئے پیش کرتا تھا ۔ مگر آپ نے اسے کپڑوں کا خلعت دیا جس کی بے حرمتی سے آپ اتنے ناراض ہوئے کہ اس کی سب خدمات کو نظر اندازہ کر دیا۔ لیکن میرے رب نے مجھے کتنے خلعت دیئے ہیں ۔ ناک ، مونسہ ہاتھ، پاؤں وغیرہ اور میں انہیں روز خراب کرتا ہوں ۔ شبلی گورنری کے زمانہ میں اتنے ظالم اور جاہر تھے۔ کہ اس کے بعد وہ جس بزرگ کے پاس بھی گئے کہ اس کے ہاتھ پر توبہ کریں اس نے یہ کہکر واپس کر دیا کہ تمہاری تو بہ نہیں قبول ہو سکتی ۔ آخر دہ حضرت جنید کے جنید کے پاس پہنچے جنہیں ابو الصوفیاء کہا جاتا ہے لیہ اور کہا کہ میں تو یہ کرنا چاہتا ہوں مگر سب کہتے ہیں کہ میری تو یہ قبول نہیں ہو سکتی۔ حضرت جنید نے فرمایا کہ جھوٹ کہتے ہیں۔ خدا سب کی توبہ قبول کرتا ہے مگہ ایک شرط تمہارے واسطے یہ ہے کہ اپنے دارالحکومت میں جاؤ اور هر دروازه پر دستک دیگر مکینوں سے معافی مانگو۔ چنانچہ جہاں ایک عرصہ تک گورنری کرتے رہے تھے وہاں گئے اور ہر گھر سے معافی کی لیے پھر آ کر بیعت کی اور ایسی سچی توبہ کی کہ آج وہ بھی جنید کی طرح ہی مشہور ہیں بلکہ عوام میں شبلی زیادہ مشہور ہیں ۔ یہ وہی شبلی ہیں کہ منصور کو جب دار پر چڑھایا گیا اور لوگ پتھر مارنے لگے تو انہوں نے بھی ایک پھول اٹھا کر مارا۔ آپ کا مطلب غالباً یہ تھا کہ خدا کی راہ راہ میں پڑنے والے پتے والے پتھر دراصل پھول ہوتے ہیں مگر منصور نے اس بات کو نہ سمجھا اور خیال کیا کہ مشیلی نے بھی لوگوں کو دیکھ کر پتھر کے بجائے مجھے پھول مار دیا تا لوگ سمجھیں کہ یہ بھی مار رہا ہے ۔ اس پر منصور رو پڑے اور کہا کہ عوام کے پتھر مجھے نہیں لگتے مگر شبلی کا پھول بہت سخت لگا ہے اسے تو میں کہہ رہا تھا کہ ہر انعام کے لئے قربانی ضروری ہے بادشاہ نے اس جرنیل کو انعام دیا تھا اور اس سے یہ قربانی چاھی تھی کہ اس کی عزت کرے اور اپنے آپ کو خطرہ میں ڈال کر اسے بچائے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک دفعہ ایک تلوار نکالی اور فرمایا یہ ہمیں اس شخص کو دونگا جو اس کا حق ادا کرے۔ ایک صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھے دیجئے ۔ چنانچہ اسے دی گئی اور وہ جب شہید ہوا تو صحابہ کا بیان ہے کہ اس کے جسم کے ستر کڑے تھے۔ اور وہ دشمنوں کے لئے ایک آنت بنا رہا تھا جہاں بھی کوئی خطرہ پیدا ہوا وہ فورا پہنچا ۔ ایک بازو کٹ گیا تو دوسرے میں تلوار پکڑ کر چلاتا رہا وہ کٹ گیا تو منہ میں لیکر چلاتا رہا ۔ پس اللہ تعالے کی طرف سے جو انعام آتے ہیں وہ ہمیشہ قربانی کا تقاضا کرتے ہیں وہ