خطبات محمود (جلد 2) — Page 176
164 نہیں ہوتی۔ کئی مریضوں کے متعلق سنا ہے کہ وہ کہتے ہیں کلورا فارم (CHLOROFORM) کی ضرورت نہیں یونی اپریشن کر دیا جائے ۔ ڈاکٹر بازو یا ٹانگ کاٹ رہا ہے اور وہ آرام سے بیٹھے ہیں۔ ڈاکٹر کا دل گھٹتا ہے مگر وہ کہتے ہیں کوئی حرج نہیں کا تو ۔ ایک شخص کے متعلق مجھے بتایا گیا ہے ۔ اب تو ان کی اولاد احمدی ہے کشمیر کے قریب ان کی ایک ریاست تھی جسے راجہ کشمیر نے فتح کر کے اپنی حکومت میں شامل کر لیا تھا ۔ وہ بہت خوبصورت جوان تھے ایک دفعہ ان کا بازو ٹوٹ گیا۔ اس زمانہ میں کوئی اچھے ڈاکٹر نہ ہوتے تھے۔ کسی جوڑنے والے نے علاج کیا۔ بڑی جرد تو گئی مگر ذرا ٹیڑھی رہی۔ جوڑ سیدھا نہ بیٹھا۔ ایک دن وہ مہاراجہ گلاب نگی یا رنبیر سنگھ کے دربا بے دربار میں بیٹھے تھے کہ مہارا ب به مهاراجه نہ ہوتی ۔ اب سیکھو نے کہا۔ آپ نے ہمیں کیوں نہ بتایا ہمارا ہڈی جوڑنے والا ملازم جوڑتا تو ٹیڑھی نہ ہوتی ۔ کیسی بدنما معلوم بدنها معلوم ہوتی ہے ۔ انہوں نے بازو کو بازو کو گھٹنے کے ساتھ دبایا اور ک ہاتھ دبایا اور پھر بڑی توڑ کر کہا کہ مہاراج اپنے جراحوں سے جڑواد دیجئے۔ راجہ انہ یہ یہ دیکھ دیا کر حیران رہ گیا کہ یہ عجیب آدمی ہے اور اسے ایسی گھبراہٹ ہوئی کہ دربار چھ ہوئی کہ دربار چھوڑ کر چلا گیا ۔ تو بعض لوگوں کے احساسات باطل ہو۔ باطل ہوتے ہیں اور بعض کے زندہ اور اس لحاظ سے دونوں کی قربانی میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ اور قربانی کی قیمت ان تمام باتوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ اسلام کے متعلق قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ وہ بڑا درست اور رقیق القلب تھا۔ اس لئے اس کے مقابلہ میں کسی سنگدل انسان کی قربانی کی کیا قیمت ہو سکتی ہے جب کوئی مرتا ہے تو اس کے بیسیوں رشتہ دار موجود ہوتے ہیں مگر لوگ افسوس کے لئے اس کے ماں باپ کے پاس ہی جاتے ہیں ۔ دوسرے رشتہ داروں کے پاس نہیں جاتے ۔ اس لئے کہ جذبات زیادہ تمہ تو ماں باپ میں ہی پیدا ہوتے ہیں ۔ اس لئے ان کا نقصان زیادہ سمجھا جاتا ہے۔ تو قربانی کی قیمت جذبات ، علم، فہم، عقل اور ارادہ کے ماتحت ہوا کرتی ہے ارادہ نہ ہو تب بھی قربانی کی قیمت نہیں ہوتی ۔ جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ کسی پر کوئی فائر کر رہا ہے اور عین اس وقت ایک شخص سامنے آجاتا اور مر جاتا ہے، تو یہ اس کی قربانی نہیں کہلا سکتی ۔ قربانی یہ ہے کہ کوئی ارادہ کے ساتھ دوسرے کے آگے ہو جائے ۔ یہ عید کی قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایسے وقت اور ایسے حالات میں کی ہے کہ انسان کو تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ یہ بہترین اور اعلیٰ درجہ کی قربانی تھی اور اللہ تعالیٰ کے فعل نے اس کی قیمت بتادی کہ ہمیشہ کے لئے اس دن قربانی مقرر کر دی۔ بظاہر یہ عجیب بات ہے کہ ایک موت ہے جس کے لئے ہم عید مناتے ہیں ۔ یہ عید علامت ہے اس بات کی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بچے کو قربان کر دیا۔ لوگ پیدائش کی خوشیاں مناتے ہیں مگر ہمارا خدا ہمیں کہتا ہے کہ جاؤ موت کی خوشیاں مناؤ کیونکہ ابراہیم نے بیٹے کو قربان کر دیا ۔