خطبات محمود (جلد 2) — Page 175
۱۷۵ باپ اپنی اولاد کو اس عرفان سے محروم رکھتا ہے اس کا دماغ یقینا شاہ دولہ کے چوہوں سے بھی چھوٹا ہے اور ظاہر ہے کہ ایسے شخص کی قربانی کی کیا قیمت ہو سکتی ہے کوئی شخص اگر کہے کہ اس نے اولاد کی مہربانی کی ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی اولاد کی قربانی کی بھتی تو ہم کہیں گے کہ یہ وہی بات ہے کہ کسی شخص نے کسی ماہر طبیب سے پوچھا تھا کہ آپ بھی علاج کرتے ہیں اور عطائی فقیر بھی کچھ مریض آپ کے اچھے ہو جاتے ہیں اور کچھ مرجاتے ہیں اور کچھ ان کے اچھے ہو جاتے ہیں اور کچھ مر جاتے ہیں۔پھر دونوں میں فرق کیا ہے؟ اس طبیب نے جواب دیا کہ میرے ہاتھ سے جو مرتا ہے وہ بھی علم کے ماتحت مرتا ہے اور ان کے ہاتھ سے جو بچ جاتا ہے وہ بھی جہالت سے بچ جاتا ہے۔نادان طبیب سے جو شخص شفا پا لیتا ہے ، وہ علم سے نہیں بلکہ اتفاق سے پاتا ہے اور ماہر طبیب کے علاج کے بعد جو مرتا ہے وہ اس لئے مرتا ہے کہ سب ملاحوں کے بعد بھی اللہ تعالے نے موت کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔پس قربانی وہی قابل قبول ہو سکتی ہے جو سمجھ کر کی جائے۔ایک انسان چلا جا رہا ہے کسی اور چیز پر کوئی فائد کو رہا تھا اور یہ اتفاقاً سامنے آجاتا اور اس طرح مرجاتا ہے تو کوئی نہیں کہیں کتا کہ اس نے قربانی کی ہے قربانی وہی ہے جو علم اور سمجھ کے ماتحت کی جائے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی ایسی ہی تھی۔آپ نے جب حضرت اسمعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ کو بیت اللہ کے پاس چھوڑا تو آپ جانتے تھے کہ یہاں کوئی چیز نہیں ہے۔پھر آپ کو یہ بھی معلوم تھا کہ یہ بچہ مریگا نہیں بلکہ اس کی اولاد ہو گی۔آپ یہ بھی جانتے تھے کہ یہستی ہزاروں سال تک دوسری دنیا کی محتاج رہے گی اور اس میں کوئی چیز پیدا نہ ہو گی۔یہ نہیں کہ آپ نے حضرت اسمعیل علیہ السلام کو وہاں رکھ دیا اور سمجھ لیا کہ یہ مرجائے گا۔یہ نہیں کہ آپ اپنی ذمہ داری کو نہیں سمجھتے تھے آپ نے اس وقت جو دودھیا کی۔وہ واضح کرتی ہے کہ آپ جانتے تھے کہ آپ کس شرم سے انہیں وہاں چھوڑ رہے ہیں اور یہ کہ ان کی اور ان کی اولاد کی آئندہ زندگی کیسے دکھوں اور تکلیفوں میں گزرے گی۔وہ وقتی جوش کے ماتحت یہ کام نہ کر رہے تھے اور نہ ہی اسے کوئی خیالی بات سمجھتے تھے۔یہ ایک ایسی بات تھی جس کے تمام متعلقات پر انہوں نے اچھی طرح خور کر لیا تھا۔آپ خوب سمجھتے تھے کہ اس کے اعراض کیا ہیں اور یہ کہ یہ خدا کے حکم کے ماتحت کی جارہی ہے اور اسی لئے آپ کی قربانی بہت ممتاز ہے۔ورنہ کوئی کہ سکتا ہے کہ شاہ دولہ کے لئے نیچے کو وقف کرنے والے نے بھی بچہ کی قربانی کردی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی کر دی حالا کر دونوں میں عظیم الشان فرق ہے۔شاہ دولہ کے چوہے کے باپنے اپنی اولاد کے احساسات کو مار دیا مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے انہیں بند کر دیا۔اور حقیقی قربانی یہی ہے کہ انسان سمجھکر قربانی کرے کہ اس قربانی کے اثرات کیا نکلیں گے اور کتنے لمبے عرصہ تک رہیں گے۔بعض لوگوں میں جس