خطبات محمود (جلد 2) — Page 174
۱۷۴ ۲۳ د فرموده ۱۶ وده ۶ ار مارچ ۱۹۳۵ء بمقام عیدگاه قادیان) یہ عید تو اپنے نام سے ہی اپنے مفہوم کو واضح کر دیتی ہے اور اپنی تشریح و تفسیر کے لئے کسی اور بیان کی محتاج نہیں۔ ہمارے ملک کے لوگوں نے بھی اردو میں اس کا نام عید قربانی رکھ کر اس کے مفہوم کو واضح کر دیا ہے اور واقعہ میں یہ اقعہ میں یہ عید ایک ایسی قربانی پر دلالت کرتی ہے جس کی مثالیں بہت کم ملتی ہیں ۔ قربانی کی قیمت کو سمجھنے کے لئے یہ بڑا ضروری ہوتا ہے کہ معلوم کیا جائے قربانی کر نیوالے کا علم اور فہم کسی مقام کا ہے۔ مثلاً ایک جاہل اور بیوقوف انسان جو اپنی قربانی کی حقیقت کو نہیں سمجھتا۔ اپنے بچہ کو شاہ دولہ کے نام پر وقف کر دیتا ہے اور وہ بچہ ساری عمر کے لئے پاگل ہو جاتا ہے۔ بظاہر یہ اولاد کی قربانی ہے۔ مگر اس کی کوئی قیمت نہیں کیونکہ وہ شخص خود شاہ دولہ کے چوہوں جیسا دماغ رکھتا ہے ۔ اگر اس کے دماغ میں عقل اور سمجھ ہوتی تو وہ ایسی حرکت کبھی نہ کرتا جس سے اُس کا بچہ ہمیشہ کے لئے علم اور عرفان سے محروم ہو جاتا۔ صرف سر چھوٹا ہونے سے عقل چھوٹی نہیں ہوتی اور نہ ہی بڑا سر نانگا زیادہ عقل مندی پر دلالت کرتا ہے ۔ بعض بڑے سر والے ہیو قوت ہوتے ہیں۔ اور بعض چھوٹے سروالوں کی عقلیں بہت تیز ہوتی ہیں۔ افریقہ کے جنگلوں میں رہنے والا ایک قبیلہ ہائی ٹاٹ ( HOTTENT OF) ہے ان لوگوں کے سر بڑے بڑے ہوتے ہیں۔ دماغ کی بناوٹ کے بعض ماہرین نے شروع شروع میں اس امر پر تعجب کا اظہار کیا کہ ان میں عقل کیوں کم ہے لیکن آخر یہ نتیجہ نکالا کہ ان کے دماغ کی ہڈیاں موٹی ہیں اور مغز چھوٹا ہے۔ مجھے اپنے بچپن کی بات یا د ہے کہ ہماری والدہ صاحبہ کبھی ناراض ہو کہ فرمایا کرتیں کہ اس کا سربہت چھوٹا ہے تو مجھے یاد ہے کہ حضرت مسیح موجود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے یہ کوئی بات نہیں رائیکیتین جو بہت مشہور وکیل تھا اور جس کی قابلیت کی دھوم سارے ملک میں تھی اس کا ا سارے سر بھی بہت چھوٹا سا تھا۔ تو جو والدین اپنی اولاد کو شاہ دولہ کا چوہا بناتے ہیں ان کے بڑے سر اس بات پر دلالت نہیں کرتے کہ وہ بہت عقلمند ہیں ۔ جو شخص اپنی اولاد کو علم اور عرفان سے محروم کرتا ہے اس کا سرا گرچہ بڑا ہی ہو تب بھی وہ بے عقل ہی ہے جس شخص کا اتنا دماغ ہی نہیں کہ سمجھ سکے ۔ خدا اور رسول کیا ہے ۔ قرآن کیا ہے۔ وہ عرفان کیا حاصل کر سکتا ہے ۔ اور جو (RATTIGAN)