خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 156 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 156

۱۵۶ انہیں اپنا بچہ تڑپتا ہوا دکھائی دیتا تھا اس لئے جب وہ ٹیلے سے نیچے اترتیں تو اس خیال سے کہ معلوم بچے کا کیا حال ہو جائے دوڑ کر اُترتیں۔ آجنگ حضرت ہاجرہ کے اس واقعہ کی یادگار کے طور پر حج کے ایام میں صفا اور مروہ پر دوڑ کر چلا جاتا ہے اور یہ دوڑ کر چلنا اسی رسم کو قائم رکھنے کے لئے ہے۔ جب حضرت ہاجرہ نے اس کرب و اضطراب میں سات چکر کاٹے اور انہیں کوئی چیز نظر نہ آئی اور ان کا دل بیٹھنے لگا تو خدا تعالے کا الہام نازل ہوا کہ اسے ہاجرہ خدا نے تیرے بچہ کے لئے سامان کر دیا جا اور اپنے بچے کو دیکھ ۔ حضرت ہاجرہ واپس آئیں تو انہوں نے دیکھا جہاں بچہ پیاس کی شدت سے تڑپ رہا تھا وہاں ایک پرانا چشمہ ابل رہا ہے۔ جو لوگ پہاڑی مقامات کو جانتے ہیں انہیں معلوم ہے کہ بعض دفعہ بہت پرانے چشمے مٹی وغیرہ سے اٹ جاتے ہیں۔ اور کسی کو یاد تک نہیں رہتا کہ اس سطح زمین کے نیچے چشمہ ہے کہ میر میں بھی ایسے چٹھے دیکھنے میں آتے ہیں حدیثوں سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ چشمہ پہلے سے تھالیے نیچے نے جب ایڑیاں رگڑیں تو وہ چشمہ پھوٹ پڑا ۔ پانی کا تو اللہ تعالے نے اس طرح انتظام کر دیا ، اب غذا کی فکر تھی۔ اتفاقاً ایک قافلہ راستہ بھول گیا اور وہ اسی جگہ آپہنچا جہاں حضرت ہاجرہ میٹھی تھیں ۔ قافلہ والوں کو پانی کی سخت ضرورت تھی جب انہوں نے وہاں چشمہ دیکھا تو انہوں نے حضرت ہاجرہ کو بڑی بڑی رقوم دیں اور کہا کہ ہم آپ کی رعایا ہو کہ یہاں رہیں گے ہمیں اس جگہ بنے کی اجازت دی جائے۔ حضرت ہاجرہ نے انہیں اجازت دیدی پس وہ حضرت ہاجرہ اور اسمعیل کی ریھایا ہو کر وہاں رہنے لگے اور پیشتر اس کے کہ حضرت اسمعیل جوان ہو، خدا نے اسے بادشاہ بنا دیا ۔ آج تک حج کے ایام میں حضرت ہاجرہ کے واقعہ کو یاد دلایا جاتا ہے جب کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو وادی غیر ذی زرع میں چھوڑا ۔ آج ہم میں سے جن کو اللہ تعالے توفیق دیتا ہے جاتے ہیں اور اسی جگہ اپنی پہاڑیوں کا طواف کرتے ہیں وہ وہاں اپنے بچے کو چھوڑ کر نہیں آتے حضرت ابراہیم والی قربانی کا ان سے مطالبہ نہیں کیا جاتا ۔ صرف ان سے یہ اقرار لیا جاتا ہے کہ اگر تمھیں خدا کے لئے اپنے بچوں کی قربانی کرنی پڑے تو تم بشاشت کے ساتھ یہ قربانی کرو گے صرف افراد لیا جاتا ہے کہ اگر تم کو چندا کے لئے کسی وقت اپنے عزیزوں کو چھوڑنا پڑے تو تم انہیں چھوڑ دو گے ۔ آج ہر وہ شخص جو صفا و مروہ کا طواف کرتا ہے وہ اسی عورت کے نقش قدم کا اتباع کرتا ہے جسے ناقص العقل والدین کہا جاتا ہے۔ اس طواف کے ذریعہ ہر مومن سے یہ اقرار لیا جاتا ہے کہ کم از کم ہمیں ایک عورت سے اپنے ایمان میں زیادہ ہونا چاہیے۔ ہم اس کے بعد عید کرتے ہیں، اس لئے کہ ہم نے اس عہد کو پورا کر دیا جو خدا نے ہم سے لیا اور یہ عید اس بات کی علامت ہے کہ ہم نے اس احمد کو نیا ہا ۔ مگر کیا تم اپنے نفسوں کو مٹول کر اور سینوں پر ہاتھ رکھ کر کر سکتے ہو کہ تم نے اس عہد کو و