خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 368

۲۶۸ آنے دیا تو لوگ سمجھیں گے کہمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے زور سے داخل ہوئے ہیں انہوں نے ایک درمیانی طریق نکالا کہ ہم آپس میں مسلح کر لیں اور اگلے سال مسلمانوں کو طواف کعبہ کے لئے آنے کی اجازت دیں۔چنانچہ انہوں نے عرب کا ایک بڑا سردار صلح کے لئے بھیجوایا۔وہ اتنا بڑا سردار تھا کہ سارا عرب اس کی عزت کرتا تھا اور وہ اتنا مخیر تھا کہ نگہ کا کوئی فرد ایسنائیں تھا جو اس کے احسان کے نیچے نہ ہو۔مکہ والے جانتے تھے کہ جب یہ سردار گیا تو مسلمان جو حد سوا ابد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ریڑھ کی ہڈی ہیں ان کی آنکھیں اس کے سامنے نیچی ہو جائیں گی چنانچہ وہ آیا اور اس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گفت گو شروع کی۔بات کرتے وقت جیسے گاؤں کے لوگوں اور زمینداروں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ دوسرے کی داڑھی کو اپنا ہاتھ لگاتے ہیں اس نے بھی متکبرانہ لہجہ میں کہا کہ جانتے ہو میری کیا حیثیت ہے۔میں سارے عرب کا سردار ہوں تم کچھ تو میرا لحاظ کرو۔اور دیکھو میں تمہاری داڑھی کو ہاتھ لگاتا ہوں کہ میری عزت کا خیال کہ وہ یہ کہ کر اس نے اپنا ہاتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی داڑھی کی طرف بڑھا یا۔اس پر ایک صحابی نے زور سے اپنی تلوار کا کندہ اس کے ہاتھ پہ مارا اور کہا اپنے ناپاک ہاتھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک داڑھی کو مت لگا۔اس نے اوپر کی طرف دیکھا کہ شخص کون ہے اور اسے پہچان کر کہنے لگا کہ تم فلاں ہو۔کیا تم میں بھی جرات ہے کہ تم میرے ہاتھ کو اپنی تلوار کے کندہ سے بناؤ۔کیا تمہیں میرے فلاں فلاں احسانات یاد نہیں رہے؟ چونکہ اس صحابی کا خاندان اس سردار کا ممنون احسان تھا اس لئے جب اس نے یہ فقرہ سنا تو پیچھے ہٹ گیا۔وہ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مخاطب ہوا اور اس نے کہا میں بزرگ ہوں۔بڑی عمر گزار چکا ہوں۔تم زمانہ کے حالات کو لکھو۔یہ لوگ جن میں سے کوئی کسی جگہ کا آدمی ہے اور کوئی کسی جگہ کا آدمی۔یہ تمہارے کیا کام آسکتے ہیں۔آخر اپنے خاندان کے آدمی اور اپنے بھائی ہی کام آیا کرتے ہیں۔تم ان کے لئے اپنے بھائیوں سے نہ لڑو۔اور دیکھو میں تمہیں یہ بات کہتا ہوں اور پھر اس نے آپ کی داڑھی کو ہاتھ لگا نا چاہا اس پر ایک اور شخص آگے بڑھا اور اس نے اپنی تلوار کا کندہ اس کے ہاتھ پہ مارا اور کہا۔اپنے ناپاک ہاتھ پیچھے بیٹا۔اس نے پھر اوپر کی طرف آنکھ اٹھائی اور پہچان کر کہنے لگا کیا تم میں جرات ہے کہ میرے ساتھ ایسا سلوک کرو۔کیا تم جانتے نہیں کہ میں کون ہوں اور میرے تم پر کتنے احسانات ہیں ؟ اس پر وہ بھی شرمندہ ہو کہ پیچھے بہٹ گیا۔شرین وہ بار بار زور دنیا کے اپنے خاندان کے لوگوں سے نہیں لڑنا چاہیئے۔ان کے تعلقات دوسروں کے قائم مقام نہیں ہوتے یہ لوگ منہ سے تو باتیں کرتے ہیں مگر اتنی محبت نہیں رکھ سکتے جتنی محبت رشتہ دار رکھا کرتے ہیں۔