خطبات محمود (جلد 2) — Page 367
٣٩ ایک باپ اور داد ا کتنے میں کتنا عظیم الشان فرق ہے۔ایک شخص سمجھتا ہے کہ سامی نسل کا ایک انسان تھا جس نے یہ قربانی کی۔وہ بھی انسان تھا اور میں بھی انسان ہوں۔اگر وہ یہ کام کر سکتا ہے توکیں بھی یہ کام کر سکتا ہوں لیکن دوسرا شخص سمجھتا ہے کہ مجھے قرآنی اصطلاحات نے ابراہیم کی اولاد میں سے قرار دیا ہے مجھے قرآنی اصطلاحات نے اسمعیل کی اولاد میں سے قرار دیا ہے۔میں ابراہیم اور اسمعیل نے جو کچھ کیا سلامی نسل کے لئے نہیں کیا بلکہ میرے ایک باپ اور میرے ایک دادا نے یہ کام کیا اور میں بھی اس کا خون اپنے اندر رکھتا ہوں۔جو شخص اس نقطہ نگاہ سے ابراہیم کی قربانی کو دیکھتا ہے اس کے جذبات بالکل اور ہوتے ہیں۔لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حالات حدیثوں میں پڑھتے ہیں یہ حدیثیں شیعوں کی بھی ہیں اور سنیوں کی بھی ہیں لیکن جب شیعوں کی حدیثیں پڑھی جائیں تو ان میں یہ لکھا ہوتا ہے کہ تمہارے نا نا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں کہا یا ہمارے وادا علی نے یوں کہا۔اب جس شان کے ساتھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کو نانا اور علی کو داد ا کتنے والے راوی کا قول نظر آتا ہے اسی شان کے ساتھ کسی دوسرے راوی کا قول کہاں نظر آسکتا ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ نہیں درود میں بھی بنی تعلیم دی گئی ہے چنانچہ اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وعلى ال محمد میں یہی بتایا گیا ہے کہ ہر مسلمان کو اپنی وسعت ایسی بدل لینی چاہیئے کہ وہ اپنے آپ کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد میں سے سمجھنے لگے جب ہم دعا کرتے ہیں کہ النبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اور آپ کی آل پر فضل نازل کہ تو ظاہر ہے کہ اس جگہ آئی سے مراد صرف نسل نہیں ہوتی بلکہ ہر وہ شخص ہوتا ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حلقہ غلامی میں شامل ہوتا ہے۔آخر انسان کا کوئی فقرہ اس کے نام طریق کار اور معمول سے مختلف نہیں ہو سکتا۔یا ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کوئی ایسی دعا نظر آنی چاہیئے جس میں آپ نے عام مسلمانوں کو باہر رکھا ہو اور صرف اپنی نسل کو شامل کیا ہو اور یا پھر ہی سمجھنا چاہیے کہ اس جگہ آل سے صرف جسمانی آل مراد نہیں ملیکہ روحانی آل مراد ہے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے لئے اور اپنے خاندان کے لئے کوئی الا دعا نہیں کی تو ماننا پڑے گا کہ اللهم صل عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّد سار مسلمانوں کو شامل کیا گیا ہے۔اور آل سے صرف جسمانی آل مراد نہیں بلکہ روحانی آلی مراد ہے۔اور روحانی آل جسمانی آل سے کم نہیں ہوتی۔خود رسول کریم صلے اللہ منیہ وآلہ وسلم کے نہ مان میں عملاً اس کا تجربہ ہو چکا ہے۔جب صلح حدیبیہ کا موقعہ آیا تو عرب لوگوں نے یہ دیکھکر کہ الہ مسلمانوں کو عمرہ سے روکیں گے تو سارے عرب میں تمہاری بدنامی ہوگی اور دوسری طرف اگر تم نے ان کو انا