خطبات محمود (جلد 2) — Page 369
749 اور اس وقت ایک ایک صحابی کے دل میں جوش آتا تھا کہ ہم اسے پیچھے ہٹائیں مگر وہ سب کے سب مجبور تھے کیونکران کے دلوں میں یہ احساس تھا کہ اس شخص کے ہم پر احسانات نہیں۔تب صحابہ کہتے ہیں اس وقت ہما رہے دل میں دعا کا جوش پیدا ہوا اور تم نے کیا خدا اب کسی ایسے نیندے کو آگے لائے جس پر اس کا احسان ہو تب ایک شخص آگے بڑھا اور جب پھر اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی داڑھی کو ہاتھ لگانے کے لئے اپنا ہاتھ آگے کیا تو اس نے ایک سخت لفظ استعمال کر کے جو میں خطبہ میں دو برا نہیں سکتا مگر بخاری میں موجود ہے۔زور سے اپنا ہاتھ بڑھایا اور اس کے ہاتھ کو جھٹکا دیکر مجھے بٹا دیا اور کہا کہ اپنا نا پاک ہاتھ پیچھے ہٹا۔اس نے آنکھیں اُٹھائیں یہ دیکھنے کے لئے کہ یہ کون شخص ہے پھر اس نے اپنی آنکھیں نیچی کر لیں اور کہا کہ میں تجھے کچھ نہیں کر سکتا کیونکہ میرا تجھ پر کوئی احسان نہیں ہے به نیا شخص ابو یکرہ تھا۔گویا سارے صحابہ میں سے صرف ایک ابوبکر کہی تھے جن پر اس کا کوئی احسان نہیں تھا۔انہوں نے جب دیکھا کہ سارے اس کے احسانوں کے نیچے دبے ہوئے ہیں اور اس وجہ سے وہ کچھ نہیں کر سکتے تو انہوں نے سمجھا کہ اب میرا کام ہے کہ میں آگے آؤں تو رشتہ داروں کی محبت اور ان کے فوائد بتبانے کا واقعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی میں موجود ہے۔مگر پھر وہی لوگ جن کے متعلق پنجابی محاورہ کے مطابق کہا جاتا ہے کہ یہ ون دن کی لکڑی ہے۔مختلف جنگوں کی لکڑی ہے ، انہوں نے اپنے اخلاص اور فدائیت کا وہ نمونہ دکھایا جس کی نظیر دنیا میں اور کہیں نظر نہیں آتی حقیقت یہی ہے کہ وہ ون ون کی کینڈی تھی اور ون دن کی لکڑی کار آمد نہیں ہوتی۔اگر تم نے اچھا فرنیچر تیار کرنا ہوا اورمختلف قسم کی لکڑیاں تمہارے پاس ہوں۔کوئی دو سال کی ہو۔کوئی پانچ سال کی ہو کوئی دس سال کی ہو، کوئی سوسال کی ہوا۔پھر کوئی شیشم کی ہوں کوئی کیکر کی ہونے کوئی گیلی ہو اور کوئی سوکھی تو کبھی تم اس سے اچھا فرنیچر تیار نہیں کر سکتے۔اچھے فرنیچر کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ ایک جگہ اور نہ ایک نمر اور ایک سی قسم کی لکڑدی ہو۔اگر مختلف جنگلوں سے مختلف قسم کی لکڑی کاٹ کر لائی جائے تو جب ہے فرنیچر نہیں بن سکتا۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تربیت سے اور آپ کی دعاؤں اور روحانیت کی برکت سے وہی جو مختلف جنگلوں کی کاٹی ہوئی کھو دیاں تھیں ان میں اتنا استحاد پیدا ہوگیا کہ کوئی رشتہ دار اپنی محبت کا اس قسم کا مونہ نہیں دیکھا تھا جب قسم کا نمو انہوں نے دکھایا۔اسلام کی سخت ترین جنگوں میں سے ایک غزوہ احزابے ہے۔عام طور پر مسلمان چونکہ تا ریخ کا مطالعہ نہیں کرتے اس لئے وہ بدر اور اُحد کی تفصیلات سے تو واقف ہیں لیکن احزاب سے نہیں۔حالانکہ قرآن کریم نے اس پر خاص زور دیا ہے۔کیونکہ احزاب کی جنگ ہی ہے جس میں دشمن نے متحدہ طور پر مسلمانوں کا مقابلہ کیا۔اور ایسی صورت میں کیا کہ ظاہری حالات