خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 174 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 174

۲۳ و فرموده و در مادر باره انتقام می گه و قاریان یہ عید تو اپنے نام سے ہی اپنے مفہوم کو واضح کر دیتی ہے اور اپنی تشریح و تفسیر کے لئے کسی اور بیان کی محتاج نہیں۔ہمارے ملک سے لوگوں نے بھی اردو میں اس کا نام عید قربانی رکھ کر اس کے مفہوم کو واضح کر دیا ہے اور واقعہ میں یہ عید ایک ایسی قربانی پر دلالت کرتی ہے جس کی مثالیں بہت کم ملتی ہیں۔قربانی کی قیمت کو سمجھنے کے لئے یہ بڑا ضروری ہوتا ہے کہ معلوم کیا جائے قربانی کر نیوالے کا علم اور غم کس مقام کا ہے۔مثلاً ایک جاہل اور بیوقوف انسان جو اپنی قربانی کی حقیقت کو نہیں سمجھتا۔اپنے بچہ کو شاہ دولہ کے نام پر وقف کر دیا ہے اور وہ بچہ ساری عمر کے لئے پاگل ہو جاتا ہے۔بظاہر یہ اولاد کی قربانی ہے۔مگر اس کی کوئی قیمت نہیں کیونکہ وہ شخص خودشاہ دولہ کے چوموں جیسا دماغ رکھتا ہے۔اگر اس کے دماغ میں عقل اور سمجھے ہوتی تو وہ ایسی حرکت کبھی نہ کر تا جس سے اُس کا بچہ ہمیشہ کے لئے علم اور عرفان سے محروم ہو جاتا۔صرف سر چھوٹا ہونے سے عقل چھوٹی نہیں ہوتی اورنہ ہی بڑا سر از گنا زیادہ عقل مندی پر دلالت کرتا ہے۔بعض بڑے سروالے ہیو قوت ہوتے ہیں۔اور بعض چھوٹے سروالوں کی عقلیں بہت تیز ہوتی ہیں۔افریقہ کے جنگلوں میں رہنے والا ایک قبیلہ ہائن ٹاٹ 5 H OTTENT OF) ہے ان لوگوں کے سر بڑے بڑے ہوتے ہیں۔دماغ کی بناوٹ کے بعض ماہرین نے شروع شروع میں اس امر تعجب کا اظہار کیا کہ ان میں عقل کیوں کم ہے لیکن آخر یہ نتیجہ نکالا کہ ان کے دماغ کی ہڈیاں موٹی ہیں اور مغز چھوٹا ہے۔مجھے اپنے بچپن کی بات یا د ہے کہ ہماری والدہ صاحبہ کبھی ناراض ہو کر فرمایا کرتیں کہ اس کا سر سمیت چھوٹا ہے تو مجھے یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے یہ کوئی بات نہیں ر ایک تین جو بہت مشہور وکیل تھا اور جس کی قابلیت کی دھوم سارے ملک میں تھی اس کا سر بھی بہت چھوٹا سا تھا۔تو جو والدین اپنی اولاد کو شاہ دولہ کا چوہا بناتے ہیں ان کے بڑے سر اس بات پر دلالت نہیں کرتے کہ وہ بہت عقلمند ہیں۔جو شخص اپنی اولاد کو علم اور عرفان سے محروم کرتا ہے اس کا سرا گرچہ بڑا ہی ہو تب بھی وہ بے عقل ہی ہے جس شخص کا اتنا دماغ ہی نہیں کہ سمجھ سکے۔خدا اور رسول کیا ہے۔قرآن کیا ہے۔وہ عرفان کیا حاصل کر سکتا ہے۔اور جو (RATTICAN )