خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 269 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 269

خطبات محمود 269 $1948 نام لے گا تو ساتھ رضی اللہ عنہ کہے گا۔ایک مزدور چکی پینے والے، گدھے چلانے والے اور اونٹ لادنے والے صحابی کا بھی آج جب نام لیا جاتا ہے تو ساتھ رضی اللہ عنہ کہا جاتا ہے۔لیکن بڑے سے بڑے بادشاہ کا جب نام لیا جاتا ہے تو کوئی اُسے رضی اللہ عنہ نہیں کہتا۔اکبر جو بہت بڑا بادشاہ گزرا ہے اُس کے نام کے ساتھ کوئی رضی اللہ عنہ نہیں کہتا مگر حضرت ابو ہریرہ کا جب بھی نام لیا جاتا ہے تو ساتھ رضی اللہ عنہ کہا جاتا ہے۔وہ ابو ہریرہ جس کو سات سات وقت کا فاقہ ہو جاتا تھا ، جس کی بعض دفعہ بھوک کی وجہ سے ایسی حالت ہو جاتی تھی کہ مرگی کا دورہ سمجھ کر آپ کو لوگ جو تیاں مارا کرتے تھے۔4 وہ تو رضی اللہ عنہ کہلاتا ہے مگر اکبر، بابر ، ہمایوں، شاہجہان، عالمگیر ، تیمور وغیرہ بادشاہوں کا نام جب لیا جاتا ہے تو اُن کے ساتھ کوئی بھی رضی اللہ عنہ نہیں کہتا۔یہ ان صحابہ کی قربانیوں کا نتیجہ تھا جو انہوں نے اسلام کے ابتدائی زمانہ میں کی تھیں۔انہوں نے دنیا کو اپنے اوپر حرام کر دیا تھا۔اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ نے انہیں بادشاہ کر دیا۔اب بڑے سے بڑا بادشاہ بھی اُن کی برتری کا اقرار کرتا ہے۔ہر زمانہ کے لیے الگ الگ انعام اور ذمہ داریاں ہیں۔ہم اس وقت کی ابتدائی جماعت ہیں ہماری حالت بالکل الگ ہے۔بعد میں زمانہ اور تقاضا کرے گا۔ہو سکتا ہے کہ بعد میں اگر کوئی نمازیں پڑھ لے یا چندہ دے دے تو خدا تعالیٰ اُسے بڑا بزرگ سمجھ لے لیکن جب تک ہم تلوار کی دھار کے نیچے اپنی گردنوں کو نہیں رکھتے، جب تک آروں کے نیچے آکر ہم نہیں چیرے جاتے ہم اس انعام کے مستحق نہیں ہو سکتے۔جماعت کے ہر آدمی پر ایک جنون سا ہونا چاہیے اور وہ یہ کہ جو بوجھ خدا تعالیٰ نے اس کے کندھوں پر ڈالا ہے وہ اسے (الفضل 18 ستمبر 1948ء) پورا کرے"۔1 : البقره: 151 2 : المائدہ: 25 3 : الصف : 10 4 بخاری کتاب الاعتصام باب ذكر النبى وحض على اتفاق ( مفهوماً)