خطبات محمود (جلد 29) — Page 268
$1948 268 خطبات محمود وقت آتا ہے تو منافق بھی دولت سے حصہ لے لیتے ہیں۔جب مسلمانوں کی بادشاہت آئی تو جعفر بر کی جیسے تو وزیر بن گئے لیکن سید عبدالقادر صاحب جیلانی جیسے بزرگ تو گوشہ نشین ہی تھے۔پس دنیوی اقتدار کے وقت میں تو منافق کامیاب ہو جاتے ہیں مگر ابتدائی زمانہ میں وہ کامیاب نہیں ہو سکتے۔بلکہ بادشاہتوں کے بعد تو اکثر دولت منافق لے جاتے ہیں۔بنوامیہ کے بادشاہوں کو لے لو وہ منافق ہی تھے جو دنیا کو لوٹتے تھے فسق و فجور میں مبتلا تھے، رشوتیں لیتے تھے، خیانتیں کرتے تھے مگر جو نیک تھے وہ گوشہ نشین ہی تھے لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اُبی بن سلول کو تو خلافت نہیں ملی تھی۔پس اللہ تعالیٰ کا سلوک ابتدائی زمانہ میں اور ہوتا ہے اور ترقی کے زمانہ میں اور ہوتا ہے۔اُس وقت دین غالب ہو جاتا ہے اور اُس کے غلبہ کے لیے دنیاوی اقتدار کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔اس لیے اگر اُس کی وقت منافق دولت میں سے حصہ لے لیتے ہیں تو خدا تعالیٰ اس کی پروا نہیں کرتا۔لیکن جب ابتدائی زمانہ ہوتا ہے جب دین کے غلبہ کے لیے دنیوی اقتدار کی ضرورت ہوتی ہے اُس وقت دنیوی اقتدار میں سے حصہ اُس کو ملتا ہے جو مخلص اور مومن ہو۔اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خلیفہ ہم بناتے ہیں کیونکہ ابتدائی زمانہ میں خلیفہ وہی ہونا چاہیے جو خدا تعالیٰ کے منشا کو جاری کرے۔لیکن جب خدا تعالیٰ کی بادشاہت قائم ہو جاتی ہے تو پھر یزید جیسے بھی بادشاہ بن جاتے ہیں۔ہزاروں ہزار ایسے فاسق ہوتے ہیں جو بادشاہ بن جاتے ہیں مگر اولیاء اللہ کو بعض اوقات روٹی بھی نہیں ملتی۔دہلی کے تخت پر جب مسلمان بادشاہ متمکن تھے سید ولی اللہ شاہ صاحب جیسے بزرگ کپڑے کو بھی ترستے تھے۔آپ کو صفائی کا بہت شوق تھا اور روز کپڑے دھلوا کر بدلتے تھے۔آپ کی دنیوی حالت بادشاہوں کے نوکروں جیسی بھی نہیں تھی۔پس جب دنیوی اقتدار حاصل ہوتا ہے اُس وقت یہ ضروری نہیں ہوتا کہ اُس میں نیکوں کو ہی حصہ ملے۔خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ اس وقت ختم ہو جاتا ہے۔پس جماعت کو چاہیے کہ وہ اپنے اندر ایک خاص قسم کی تبدیلی پیدا کرے۔جب بھی دنیا میں کوئی مامور آتا ہے تو ابتدائی زمانہ میں اُس کے ماننے والوں میں سے ہر ایک دین کا سپاہی ہوتا ہے جو اپنی جان دین کے لیے پیش کر دیتا ہے۔اس کا بدلہ کیا ملتا ہے؟ حضرت ابو ہریرہ ایک غریب آدمی تھے۔اُن کے بھائی میں بھی اتنی طاقت نہیں تھی کہ وہ اپنے بھائی کو جو دین کی خاطر سب کچھ چھوڑ کر بیٹھ گیا تھا کھانا دے سکے لیکن ابو ہریرہ کو صرف ابو ہریرہ ہی نہیں کہتے بلکہ بڑے سے بڑا بادشاہ بھی جب آپ کا