خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 270

$1948 270 27 خطبات محمود کوشش کرو کہ اسلام کی وہ فتوحات جواحمد بیت کے ہاتھ پر ظاہر ہونے والی ہیں اُن میں تمہارا بھی حصہ ہو (فرموده 3 ستمبر 1948 ء پارک ہاؤس کوئٹہ ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: چونکہ کل اِنشَاءَ اللہ دس بجے صبح کی گاڑی سے میرا یہاں سے چلے جانے کا ارادہ ہے اس لیے یہ جمعہ اگر خدا تعالیٰ کی مشیت یہی ہوئی تو ہمارے سفر کا آخری جمعہ ہو گا۔ہر کام جو شروع ہوتا ہے اس کا کوئی انجام بھی ہوتا ہے۔کئی کام ایسے ہوتے ہیں جو ظاہری طور پر نہایت اہم معلوم ہوتے ہیں لیکن انجام کے لحاظ سے نہایت حقیر ثابت ہوتے ہیں اور کئی ایسے کام ہوتے ہیں جو بظاہر نہایت حقیر نظر آتے ہیں لیکن انجام کے لحاظ سے وہ بہت اہم ہوتے ہیں۔حضرت یوسف علیہ السلام نے رویا میں دیکھا کہ چاند اور ستارے آپ کو سجدہ کر رہے ہیں لیکن ستاروں سے مراد محض ان کے بھائی تھے جو دینی لحاظ سے بھی کوئی بڑا درجہ نہیں رکھتے تھے اور دنیوی لحاظ سے بھی کوئی حیثیت نہیں تھی۔آپ نے رویا میں ستارے دیکھے لیکن نکلے بھائی۔اس کے مقابلہ میں فرعون نے خواب میں چند ستے دیکھے لیکن نکلا اُس نے سے ملک کا قحط۔یہ نظارہ بہت چھوٹا تھا لیکن اس کی تعبیر بہت بڑی تھی۔حضرت یوسف علیہ السلام کے