خطبات محمود (جلد 29) — Page 25
$1948 25 خطبات محمود کم کر دیا جائے تو باقی وعدوں کی تعداد بہت تھوڑی رہ جاتی ہے۔پس میں جماعت کے اُن دوستوں کو ہی جن پر وہ آفت نہیں آئی جو مشرقی پنجاب کے احمدیوں پر آئی تھی اُن کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے یہ تحریک کرتا ہوں کہ وہ جلد سے جلد اپنے وعدے بھجوائیں اور زیادہ سے زیادہ بھجوائیں اور جلد سے جلد اُنہیں پورا کرنے کی کوشش کریں۔اس کے ساتھ ہی پچھلے سال کے وعدوں میں سے جو ایک لاکھ کے وعدے ابھی تک وصول ہونے باقی ہیں۔اُن کو بھی پورا کریں۔تحریک جدید کے وعدوں کی کمی کے ساتھ ہی صدر انجمن احمدیہ کے چندوں میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے۔یہ صورت حال نہایت خطر ناک ہے۔کیونکہ سلسلہ گزشتہ مہینوں میں دو تین لاکھ کا مقروض ہو چکا ہے۔اگر جماعت نے اپنے کی فرائض کو نہ پہچانا اور اس کمی کو پورا کرنے کی طرف توجہ نہ کی تو دو چار مہینوں کے اندر سلسلہ کے دیوالیہ ہو جانے کا خطرہ نظر آ رہا ہے۔یہ تو مجھے یقین ہے اور میری قریباً ساٹھ سالہ عمر کا تجربہ بتا رہا ہے کہ سلسلہ کبھی دیوالیہ نہیں ہوگا۔مگر مجھے ڈر ہے کہ قربانیوں اور چندوں میں سستی دکھانے والے دیوالیہ نہ ہو جائیں۔ایک لمبا تجر بہ میری آنکھوں کے سامنے ہے۔ایک لمبا زمانہ ہماری جماعت کی مخالفت میں مولویوں نے بھی زور لگایا اور حکومت نے بھی، عیسائیوں نے بھی زور لگایا اور آریوں نے بھی۔ہندوؤں نے بھی زور لگایا اور سکھوں نے بھی۔اور یکے بعد دیگرے مخالفت کے بیسیوں طوفان آئے۔سینکڑوں گھٹائیں اُٹھیں۔مگر عین اُس وقت جب کہ جماعت کو کوئی راستہ کامیابی کا نظر نہ آتا تھا۔خدا تعالیٰ نے ہمیشہ ہی مجھے اور جماعت کو کامیاب بنایا اور مخالفین کو نیچا دکھایا اور مخالفت کے وہ خوفناک بادل جن کے متعلق یہ خیال کیا جاتا تھا کہ وہ کبھی دور نہیں ہوں گے خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے آپ ہی آپ چھٹ جاتے رہے۔پس میں خدا تعالیٰ کے فضل سے مایوس نہیں ہوں۔اور اس وقت بھی صرف یہی ایک راستہ مجھے نظر آ رہا ہے کہ وہ خدا جو ہمیشہ میرا اور ہماری جماعت کا ساتھ دیتا رہا وہ اب بھی اپنی ساری قوتوں کے ساتھ موجود ہے اور اُس کی سنت ہمیں بتاتی ہے بلکہ ہمیں یقین دلاتی ہے کہ اب بھی وہ ہماری مدد کرے گا۔پس خدائی سنت کے ماتحت تو ہمیں کامیابی کا پورا پورا یقین ہے مگر اپنے مادی اسباب کے ذریعہ ہمیں کامیابی کی کوئی امید نہیں۔کیونکہ مادی اسباب کو مہیا کرنے کا کام جماعت کے کندھوں پر ہے اور جماعت نے اُس حد تک اپنے فرض کو نہیں پہچانا جس حد تک پہچاننا چاہیے تھا۔اس لیے میں ڈر رہا ہوں کہ جماعت کے وہ لوگ جو اس عظیم الشان تغیر سے سبق حاصل نہ کرتے ہوئے سُستیوں کو نہیں