خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 26 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 26

خطبات محمود 26 چھوڑتے وہ کہیں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے مورد نہ بن جائیں۔$1948 میری مثال اس وقت اُس عورت کی سی ہے جس کی ایک لڑکی کمہاروں کے ہاں بیاہی ہوئی تھی اور دوسری مالیوں کے ہاں۔جب کبھی بادل اُسے آسمان پر نظر آتے تھے تو وہ عورت گھبراہٹ کی حالت میں ادھر ادھر پھرتی اور کہتی کہ میری دونوں بیٹیوں میں سے ایک کی خیر نہیں۔یعنی اگر بادل برس گیا تو وہ لڑکی جو کمہاروں کے ہاں بیاہی ہوئی ہے اُس کے مٹی کے برتنوں کے ٹوٹ جانے کا اندیشہ ہے۔اور اگر بادل نہ برسا تو وہ لڑکی جو مالیوں کے ہاں بیاہی ہوئی ہے اس کے باغ کے پودوں اور سبزیوں کے خشک ہو جانے کا خطرہ ہے۔میں بھی جب ان حالات پر غور کرتا ہوں تو میری حالت بالکل اُس عورت کی سی ہو جاتی ہے۔کیونکہ جب میں سوچتا ہوں کہ سلسلہ کو اس وقت فلاں فلاں مشکلات کا سامنا ہے تو میرا دل سلسلہ کی وجہ سے گھبرا اٹھتا ہے مگر جب میں گزشتہ لمبے تجربہ کی بناء پر خدا تعالیٰ کی سنت اور اُس کے سلوک کو دیکھتا ہوں تو مجھے ان سستی دکھانے والے لوگوں کے انجام کی وجہ سے گھبراہٹ ہوتی ہے کہ جب خدا تعالیٰ سلسلہ کو ان تمام مصائب اور ابتلاؤں سے نکال لے گا تو ان سستی دکھانے والوں کو مصائب میں ڈال دے گا۔پس کبھی ایک صدمہ میرے دل پر طاری ہو جاتا ہے اور کبھی دوسرا۔کیونکہ قدرتی طور پر مجھے اُن لوگوں سے جنہوں نے میرے ہاتھ پر بیعت کر کے سلسلہ میں شمولیت اختیار کی ہے محبت اور انس ہے۔یوں تو سلسلہ پر میرا کوئی عزیز سے عزیز بھی قربان ہو جائے تو مجھے ہرگز پروا نہ ہوگی۔مگر ایک شخص کے میرے ہاتھ پر بیعت کر کے سلسلہ میں داخل ہونے کی وجہ سے مجھے جو محبت اور پیار اُس کے ساتھ ہوتا ہے اُس سے میں مجبور ہوں کہ میں اُسے توجہ دلاؤں کہ وہ اپنے حالات کو درست کرے اور اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی گرفت سے بچالے۔اور ساتھ ہی وہ مایوس بھی نہ ہو کہ جماعت کا اب کیا بنے گا۔بلکہ وہ سمجھ لے کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے گزشتہ ساٹھ سالوں میں جماعت کو مخالفتوں کے باوجود بڑھایا ہے اُسی طرح اب بھی وہ بڑھائے گا۔بلکہ یہ تو ممکن ہے کہ سورج مشرق کی بجائے مغرب سے نکل آئے مگر یہ ممکن نہیں کہ خدا تعالیٰ کا بنایا ہوا سلسلہ درہم برہم ہو جائے۔خدا تعالیٰ کی باتیں ضرور پوری ہو کر رہیں گی۔اور اس طرح پوری ہوں گی کہ دشمن حیرت کے ساتھ کہے گا کہ یہ بھی کوئی ابتلاء تھا جو اس جماعت پر آیا۔ایسے معمولی ابتلاؤں میں سے تو لوگ بیچ کر نکلا ہی کرتے ہیں۔(الفضل 12 فروری1948ء)