خطبات محمود (جلد 29) — Page 24
$1948 24 خطبات محمود ہر قصبہ میں اخلاص دکھانے والے موجود ہیں۔اسی طرح ایشیا، یورپ اور امریکہ اور انڈونیشیا کی جماعتیں بھی قربانی کا شاندار مظاہرہ کر رہی ہیں اور یہ اخلاص کا نمونہ دکھانے والے ہمارے لیے اس خوشخبری کا پیش خیمہ ہیں کہ آہستہ آہستہ جماعت ایک ایسے مقام پر جا پہنچے گی جس پر پہنچنا خدا تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق اس کے لیے مقدر ہو چکا ہے۔بہر حال جماعت کو قربانیوں کی طرف اور اُس کے فرائض کی طرف توجہ دلانا اور اُس کو اُبھارنا میرا اور جماعت کے ہر کارکن کا فرض ہے۔گزشتہ ایام میں میں نے تحریک جدید کے چودھویں سال کا اعلان کیا تھا مگر اُس کے متعلق بار بار دفتر کی طرف سے مجھے یہ رپورٹ ملی ہے کہ اس سال گزشتہ سال کی نسبت وعدوں میں بہت زیادہ کمی ہے۔اس کی ایک وجہ تو ظاہر ہے کہ جماعت میں سے چالیس فیصدی لوگ غریب ہو چکے ہیں۔اُن کی جائیداد میں جاتی رہیں۔اُن کی تجارتیں تباہ ہو گئیں اور اُن کے املاک و اسباب چھن گئے اور وہ اس وقت کنگالی کی حالت میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔اور اگر وہ تھوڑا بہت کماتے بھی ہیں تو بڑی مشکل سے وہ اپنے لیے بستر یا کپڑے یا خورونوش کا انتظام کرتے ہیں۔لیکن جہاں کمی کی یہ وجہ موجود ہے وہاں ہمیں یہ بھی نظر آتا ہے کہ جماعت کا ساٹھ فیصدی حصہ ایسا ہے جس پر کوئی مصیبت نہیں آئی اور خدا تعالیٰ نے انہیں تباہی اور بربادی سے بچالیا ہے۔اگر یہ ساٹھ فیصدی تباہی سے بچ جانے والا حصہ اس نکتہ کو سمجھتا اور وہ اپنے تباہ شدہ چالیس فیصدی بھائیوں کا بوجھ اُٹھالیتا تو اس کمی کو دور کیا جاسکتا تھا اور وہ حصہ سلسلہ کے لیے مفید ثابت ہوسکتا تھا۔مگر نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس ساٹھ فیصدی حصہ نے جو تباہی سے سو فیصدی بچا رہا اپنے فرائض کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔پھر تحریک جدید کے چودھویں سال میں وعدے پیش کرنے والوں میں اُن لوگوں کے وعدے بھی شامل ہیں جن کی ساری جائیدادیں تباہ ہو چکی ہیں۔انہوں نے یہ وعدے اس لیے پیش نہیں کیے کہ اُن کے پاس ان وعدوں کے پورا کرنے کے سامان موجود ہیں بلکہ انہوں نے میرے کہنے پر اپنے وعدے پیش کر دیئے ہیں۔اس اُمید پر کہ شاید خدا تعالیٰ انہیں وعدوں کے پورا کرنے کی توفیق دے دے۔اور یہ تو خدا تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان لوگوں کی حالت اس سال درست ہوگی یا اگلے سال یا چند سالوں میں جا کر ہوگی۔بہر حال چودھویں سال کے وعدوں میں سے ایسے لوگوں کے وعدے جو شاید بیس یا پچیس فیصدی ہوں گے کم کر دینے پڑیں گے۔اس لیے کہ شاید وہ لوگ اپنے وعدوں کو پورا نہ کرسکیں۔اگر ان وعدوں کو بھی