خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 132

$1948 132 خطبات محمود پوری طرح واقف نہیں ہوئے اور شاید وہ یہ کوشش کرتے ہیں کہ واقف نہ ہوں۔وہ میری باتوں کو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتے ہیں اور اُس کبوتر کی طرح جو بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتا ہے سمجھ رہے ہیں کہ محض آنکھیں بند کر لینے سے وہ خطرہ سے محفوظ ہو جائیں گے لیکن یہ درست نہیں۔خطرے آنکھیں بند کر لینے سے دور نہیں ہوا کرتے۔خطرے مقابلہ کرنے سے دور ہوتے ہیں۔بے شک مقابلہ کی مختلف اقسام ہیں۔کچھ لوگ خالص دنیوی سامانوں کو مقابلہ کی تیاری کہتے ہیں اور کچھ لوگ خالی بیٹھ رہنے اور خدا تعالیٰ پر ایک جھوٹا تو کل کر لینے کو خطرہ سے محفوظ رہنے کا سامان قرار دیتے ہیں۔لیکن یہ دونوں گروہ غلطی پر ہوتے ہیں۔نہ تو خطرات کے لیے صرف جسمانی کوششیں خصوصاً ان قوموں کی جو کمزور ہوں کافی ہوتی ہیں اور نہ خطرات سے جھوٹے تو کل انسان کو بچایا کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے دنیا میں دو قانون جاری کیے ہیں۔ایک مادی اور ایک روحانی۔مادی قانون کے ماتحت وہ ساری تیاری جو خدا نے کسی چیز کے لیے مقرر کی ہوئی ہے اُس کا کرنا ضروری ہوتا ہے۔وہ تمام قسم کے سامان جن سے اُن خطرات کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے اُن کو مہیا کرنا ضروری ہوتا ہے۔وہ تمام قسم کی جتھا بازی جس جتھا بازی کا سامان کرنا اُن خطرات کے دور کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہے اُس کی جتھا بازی کا مہیا کرنا بھی نہایت ضروری ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ہی پھر خدا تعالیٰ پر توکل کرنا۔جس کے معنی زیادہ سے زیادہ کام کرنے کے بھی ہوتے ہیں۔وہ بھی ضروری ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ پر توکل محنت اور قربانی کے بعد ہوتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں ایک دفعہ ایک وفد آیا۔اُس وفد کے افراد میں سے ایک شخص جلدی سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔آپ کو اس وفد کے آنے کی اطلاع مل گئی تھی اور آپ سمجھتے تھے کہ اس کے مدینہ میں داخل ہونے کے بعد اتنی جلدی کوئی شخص آپ کے پاس نہیں پہنچ سکتا تھا۔آپ نے اس سے پوچھا کہ تم نے اپنی سواری کا کیا انتظام کیا ہے؟ اُس نے کہا یارسول اللہ ! میں نے اپنے اونٹ کو خدا تعالیٰ کے تو کل پر چھوڑ دیا ہے۔آپ نے فرمایا جاؤ اپنے ونٹ کا گھٹنا باندھواور اونٹ کا گھٹا باندھنے کے بعد خدا پر توکل کرو۔1 پس وہ لوگ بے وقوف ہوتے ہیں جو ڈ نیوی سامانوں کے جمع کرنے کے بغیر خدا پر توکل کرتے ہیں۔ہم ثنویت کے قائل نہیں جیسے بگڑا ہواز رتشتی مذہب ثنویت کا قائل ہے۔اُن کا عقیدہ ہے کہ خدا دو ہیں۔ایک نے نیکی پیدا کی ہے اور دوسرے نے بدی پیدا کی ہے، ایک خدا نے نور پیدا کیا