خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 133

$1948 133 خطبات محمود ہے اور دوسرے خدا نے ظلمت پیدا کی ہے، ایک خدا نے آرام دہ چیزیں پیدا کی ہیں اور دوسرے خدا نے تکلیف دہ چیزیں پیدا کی ہیں۔ہمارا اُن کی طرح یہ عقیدہ نہیں کہ خدا دو ہیں۔ایک نے روحانیت پیدا کی ہے اور دوسرے نے مادیت پیدا کی ہے۔اگر دو خدا ہوتے اور ہم روحانی خدا کے ساتھ ہوتے تو ہم کہہ سکتے تھے کہ ہم اپنے خدا کے پیدا کیے ہوئے سامانوں سے فائدہ اٹھائیں گے۔ہم دوسرے خدا کے پیدا کیے ہوئے سامانوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار نہیں۔لیکن اسلام کے رو سے روح کا پیدا کرنے والا بھی وہی خدا ہے اور مادہ کا پیدا کرنے والا بھی وہی خدا ہے۔پس جس طرح روحانی سامانوں سے فائدہ اٹھانا ضروری ہے اسی طرح جسمانی اور مادی سامانوں سے فائدہ اٹھانا بھی ضروری ہے۔جس طرح وہ اس بات پر ہم سے ناخوش ہوتا ہے کہ ہم نے کیوں روحانی سامانوں سے فائدہ نہیں اُٹھایا، کیوں عبادت الہی سے غفلت برتی ؟ کیوں دعاؤں میں کوتاہی کی؟ کیوں اُس پر یقین اور تو کل نہ کیا؟ اسی طرح وہ اِس بات پر بھی خفا ہوتا ہے کہ کیوں ہم نے اُن مادی سامانوں کو استعمال نہیں کیا جو اس نے ہمارے لیے دنیا میں پیدا کیے تھے۔وہ قرآن کریم میں بڑے زور سے فرماتا ہے اَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتُبِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ 2 کیا تم خدائی تعلیم کے ایک حصہ پر ایمان لاتے ہو اور دوسرے حصہ کا انکار کرتے ہو؟ حالانکہ یہ بھی خدا کا پیدا کیا ہوا ہے اور وہ بھی خدا کا پیدا کیا ہوا ہے۔پس روحانی سامانوں کا جمع کرنا اور مادی سامانوں کا جمع کرنا دونوں ایک وقت میں ضروری ہوتے ہیں خصوصاً اس قوم کے لیے جس کے پاس مادی سامان کم ہوتے ہیں یا اس کے افراد کی تعداد کم ہوتی ہے۔اُس کے لیے جہاں روحانی سامان نہایت ضروری ہوتے ہیں وہاں مادی سامانوں کا جمع کرنا بھی نہایت اہم ہوتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آدمی تھوڑے تھے مگر آپ نے کام کرنا چھوڑ نہیں دیا۔بلکہ اس لیے کہ آدمی کم تھے آپ نے اُن سے زیادہ سے زیادہ کام لینا شروع کیا ہوا تھا۔مکہ والوں کے دل میں جو مسلمانوں کی دشمنی تھی وہ انتہا تک پہنچی ہوئی تھی۔مگر ہمیں نظر آتا ہے کہ مکہ والے تو حملہ کر کے سو جاتے تھے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سونے نہیں دیتے تھے۔بلکہ حملہ کے بعد حملہ کرواتے تھے اور وفد کے بعد وفد با ہر نگرانی اور حفاظت کے لیے بھجواتے تھے۔اور متواتر صحابہ کو فنونِ جنگ سیکھنے پر آمادہ کرتے اور پھر اس بات کی نگرانی فرماتے کہ وہ فنونِ جنگ سیکھنے میں حصہ لیتے ہیں یا نہیں۔ہماری جماعت کو بھی ان امور کی اہمیت سمجھنی چاہیے۔مت سمجھو کہ خطرہ گزر گیا۔ہے۔