خطبات محمود (جلد 29) — Page 127
$1948 127 خطبات محمود تک پہنچا۔یہاں پہنچ کر اُس نے کہا اس وقت تک جس قدر تفاسیر لکھی جاچکی ہیں وہ اس آیت تک ہی ہیں۔اس کے بعد کی آیات کی کوئی تفسیر اب تک نہیں لکھی گئی۔پھر اُس نے مجھ سے پوچھا کیا میں اس کے بعد کی آیات کی تفسیر بھی تم کو سکھاؤں؟ میں نے کہا ہاں سکھاؤ۔جس پر فرشتہ نے مجھے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ 2 اور اس کے بعد کی آیات کی تفسیر سکھانی شروع کی۔جب وہ ختم کر چکا تو میری آنکھ کھل گئی۔جب میری آنکھ کھلی تو اُس تفسیر کی ایک دو باتیں مجھے یاد تھیں۔لیکن معاً بعد میں سو گیا اور جب دوبارہ اُٹھا تو تفسیر کا کوئی حصہ بھی یاد نہ تھا۔میں نے اس خواب کا حضرت خلیفہ اول سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا جب تم جاگے تھے تو اُسی وقت تم کو تفسیر لکھ لینی چاہیے تھی تا ہم بھی اُس سے فائدہ اٹھاتے لیکن در حقیقت میری تعلیم اس خواب سے ہی شروع ہوئی۔میں نے کسی انسان سے علم نہیں پڑھا بلکہ فرشتوں سے پڑھا۔کوئی مشکل سے مشکل سوال جو دین سے کسی نہ کسی رنگ میں تعلق رکھتا ہو جب بھی میرے سامنے پیش ہوا میں نے خدا تعالیٰ کے فضل سے اُس کا تسلی بخش جواب دیا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ سائل ضد سے میرے جواب کو تسلیم نہ کرے۔بلکہ بسا اوقات لوگوں نے مجھے حیرت سے پوچھا ہے کہ یہ علوم آپ نے کہاں سے پڑھے ہیں؟ میں لاہور میں تھا کہ ایک لڑکی جو ایم۔اے فلاسفی میں پڑھتی تھی وہ مجھے ملنے آئی اور اُس نے فلسفہ پر گفتگو شروع کر دی۔جب میں نے اُس کے سوالات کے جوابات دیئے تو وہ مجھے کہنے لگی آپ نے فلسفہ کہاں تک پڑھا ہے؟ میں نے جواب دیا کہ میں نے فلسفہ بالکل نہیں پڑھا۔تھوڑی دیر باتیں کر کے کہنے لگی آپ پر وفیسر ہیں؟ میں نے کہا میں پرائمری فیل ہوں۔تھوڑی دیر اور باتیں کرنے کے بعد بولی کیا آپ بشیر احمد ایڈووکیٹ ہیں؟ اُن دنوں میں شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ کی کوٹھی میں ٹھہرا ہوا تھا۔میں نے کہا میں تو پرائمری فیل ہوں۔اس پر وہ گھبرا گئی اور کہنے لگی آپ مجھے دھوکا کیوں دے رہے ہیں؟ اُس دن قاضی اسلم صاحب مجھے ملے۔وہ لڑکی اُن کی شاگر تھی۔میں نے انہیں کہا میں نے آج آپ کی تعلیم دیکھ لی۔آپ کی ایک شاگرد آئی تھی۔پرائمری فیل کو کبھی پروفیسر کہتی تھی کبھی ایڈووکیٹ کہتی تھی۔تو قرآن کریم کا علم اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسا عطا فرمایا ہے کہ کسی قسم کا اعتراض قرآن کریم پر کیا جائے میں اُس کا جواب قرآن سے ہی دے سکتا ہوں۔اور یہ سب علم اُسی علم کا نتیجہ ہے جو فرشتہ نے مجھے خواب میں سکھایا۔اس خواب کے بعد بیسیوں مواقع ایسے آئے کہ چند سیکنڈ کے اندر