خطبات محمود (جلد 29) — Page 126
$1948 126 خطبات محمود کر دیا جاتا تھا۔پھر میں مڈل میں بھی فیل ہوا اور انٹرنس (ENTRANCE) میں بھی فیل ہوا۔بچپن سے ہی میری صحت خراب رہتی تھی۔چھ چھ ماہ بخار رہتا تھا۔ڈاکٹر بتاتے تھے کہ سیل کی بیماری کا احتمال ہے۔حضرت خلیفہ اول نے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں میری صحت کے متعلق عرض کیا تو آپ نے فرمایا اس نے کونسے دنیوی اسباب سے زندگی بسر کرنی ہے۔پھر آپ نے مجھے فرمایا بخاری اور قرآن شریف کا ترجمہ مولوی صاحب سے پڑھ لو اور تھوڑی سی طب بھی پڑھ لو۔طب ہمارے والد صاحب نے بھی پڑی ہوئی تھی۔اس طرح خدمت خلق کا ایک موقع ہاتھ آ جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے فرمان کے مطابق میں نے حضرت خلیفہ اول سے پڑھنا شروع کیا۔میری آنکھوں کی بیماری اور گلے کی خرابی کی وجہ سے حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ میاں کتاب لاؤ میں خود ہی پڑھتا جاتا ہوں تم سنتے جاؤ۔اس طرح میں نے قرآن کریم ، بخاری اور تھوڑی سی طب پڑھی۔مگر اُس علم کے ساتھ مسجد میں کوئی شخص ملا گیری بھی تو نہیں کر سکتا۔جب میں خلیفہ ہوا تو کئی لوگوں نے میرے متعلق کہا کہ ایک ایسے شخص کو خلیفہ چن لیا گیا ہے جو جاہل ہے۔مگر دیکھنا یہ ہے کہ کیا لیمپ اپنی ذات میں کوئی حیثیت رکھتا ہے؟ بجلی کے لیمپ کا تعلق جب تک بجلی کی اُس تار سے ہوگا جہاں سے بجلی آتی ہے وہ روشنی دینے کی طاقت رکھے گا۔اسی طرح میر اعلم کسی انسان کا سکھایا ہوا نہیں بلکہ یہ وہ علم ہے جو قرآن کریم کا علم ہے اور خدا تعالیٰ کا سکھایا ہوا ہے۔جن دنوں میں حضرت خلیفہ اول سے پڑھا کرتا تھا اُن دنوں میں میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مشرق کی طرف منہ کر کے کھڑا ہوں اور میرے سامنے ایک وسیع میدان ہے۔اُس میدان میں اس طرح کی ایک آواز پیدا ہوئی جیسے برتن کو ٹھکورنے سے پیدا ہوتی ہے۔یہ آواز فضا میں پھیلتی گئی اور یوں معلوم ہوا کہ گویا وہ سب فضاء میں پھیل گئی ہے۔اُس کے بعد اُس آواز کا درمیانی حصہ متمثل ہونے لگا اور اُس میں ایک چوکھٹا ظاہر ہونا شروع ہوا جیسے تصویروں کے چوکھٹے ہوتے ہیں۔پھر اُس چوکھٹے میں کچھ ہلکے سے رنگ پیدا ہونے لگے۔آخر وہ رنگ روشن ہو کر ایک تصویر بن گئے۔اور اُس تصویر میں حرکت پیدا ہوئی اور وہ ایک زندہ وجود بن گئی۔میں نے خیال کیا کہ یہ ایک فرشتہ ہے۔وہ فرشتہ مجھ سے مخاطب ہوا اور اُس نے مجھے کہا کیا میں تم کو سورۃ فاتحہ کی تفسیر سکھاؤں؟ میں نے کہا ہاں۔پھر اُس فرشتہ نے مجھے سورۃ فاتحہ کی تفسیر سکھانی شروع کی یہاں تک کہ وہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ 1