خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 128 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 128

$1948 128 خطبات محمود تنے لمبے مضامین سورتوں کی تفسیر پر مشتمل مجھے سکھائے گئے کہ اگر اُن کو تقریر میں بیان کیا جائے تو کئی گھنٹوں میں بھی ختم نہ ہوں۔بعض اوقات سجدہ سے سر اٹھاتے ہوئے ، بعض دفعہ رکوع جاتے ہوئے ، بعض دفعہ رکوع سے اُٹھتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے مجھے کئی سورتوں کی تفسیر سکھائی ہے مگر اُن سب علوم کا منبع اللہ تعالیٰ ہے۔دیکھ لو جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگی کہ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِى وَيَسْرَى أَمْرِى وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ نِسَانِي - 3 یعنی اے میرے خدا! میرا سینہ کھول دے اور میرے لیے یہ کام آسان کر دے اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔تو اس کے بعد آپ کی زبان کی گرہ ایسی کھلی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو ایسی فصاحت و بلاغت عطا ہوئی جو اپنی ذات میں اللہ تعالیٰ کا ایک بہت بڑا نشان تھی۔مفسرین بیان کرتے ہیں کہ حضرت موسی کی زبان میں لکنت تھی۔چونکہ خدا تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا تھا کہ آپ فرعون کے پاس جائیں اور اسے تبلیغ کریں۔اس لیے آپ نے خدا تعالیٰ سے یہ عرض کی کہ وَاجْعَلْ لِي وَزِيرَا مِنْ أَهْلِى - 4 یعنی اے میرے خدا! میرے رشتہ داروں میں سے میرے بھائی ہارون کو میرا مددگار بنا۔وہ زیادہ اچھی طرح بول سکتا ہے اور میری زبان نہیں چلتی۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس دعا کو قبول کیا اور ہارون کو بھی خدا تعالیٰ نے نبی بنا دیا۔مگر رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِى وَيَرْ لي أَمْرِى وَاحْلُلْ عُقْدَةً من لساني ) والی دعا کے بعد جب آپ فرعون کے پاس تبلیغ کے لیے گئے تو آپ نے ایک لفظ بھی حضرت ہارون کو نہیں بولنے دیا۔خدا تعالیٰ نے حضرت موسی علیہ السلام کو وہ قوت گویائی عطا فرمائی کہ ہارون کے بولنے کی ضرورت ہی نہ پڑی۔تو اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت سے سب علوم ملتے ہیں۔اس لیے خدا تعالیٰ پر توکل کرو اور اُس سے دعائیں مانگو تا وہ تمہیں اپنے پاس سے قرآن کریم کے علوم عطا کوئی علم ایسا نہیں جس کے اصول قرآن کریم نے بیان نہ کر دیئے ہوں۔دوسرے مسلمان قرآن کریم سے غافل ہیں مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دنیا کے لیے قرآن کریم کو ایک زندہ کتاب کے طور پر پیش کیا ہے۔ہماری جماعت کے سامنے کتنا بڑا کام ہے یعنی قرآن کریم کی حکومت کو سب دنیا میں قائم کرنا ہے۔ساری دنیا کی آبادی دو ارب ہے اور ہندوستان اور پاکستان کی