خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 125

$1948 125 خطبات محمود مؤمن ہر حال میں خوش ہوتا ہے۔غرض ایک مدت سے میری یہ تجویز تھی کہ پشاور میں زمین مکان کے لیے خرید لی جائے یا کوئی بنا بنا یا مکان خرید لیا جائے۔1941ء میں کون کہہ سکتا تھا کہ قادیان پر حملہ ہو گا اور اس حملہ میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال ہوں گے اور اس حملہ میں احمدی بھی لڑ رہے ہوں گے اور شہر کے باہر کے سب محلے خالی ہو جائیں گے اور ہمیں وہاں سے بھاگنا پڑے گا اور ہم قادیان سے باہر ایسی جگہ جائیں گے جہاں پہاڑیاں بھی ہوں گی۔پھر آج سے چند سال پہلے کون خیال کر سکتا تھا کہ انگریز چلے جائیں گے اور اس طرح خونریزی ہوگی اور قادیان پر بندوقوں سے حملہ کیا جائے گا اور میں قادیان سے باہر آ جاؤں گا۔اور باہر آ کر کسی مرکز کی تلاش کروں گا۔ایک جگہ ہم نے زمین مرکز کے لیے دیکھی ہے۔اُس کے پاس پہاڑیاں بھی ہیں۔مگر میں نے اُس زمین پر خواب میں گھاس بھی دیکھا تھا مگر اس زمین پر گھاس نہیں۔پشاور آتی دفعہ نوشہرہ اور کیمبل پور کے درمیان جو میدان میں نے دیکھا ہے اُس کے پاس پہاڑیاں بھی ہیں اور گھاس بھی ہے۔اس علاقہ میں اگر پندرہ ہیں ایکٹر زمین خرید لی جائے تو یہاں مکان بھی بنائے جاسکتے ہیں، مہمان خانہ بھی بنایا جاسکتا ہے اور اس طرح صوبہ سرحد میں جماعت کا ایک مرکز بنایا جا سکتا ہے میری مدت سے یہ سکیم تھی کہ ہر صوبہ میں ایسے مرکز قائم کیے جائیں مگر اس طرف جماعت نے توجہ نہ کی۔اگر ہر صوبہ میں مرکز قائم ہو گئے ہوتے تو آج تکلیف کا سامنا نہ ہوتا۔اسی طرح اگر صوبہ سرحد میں مرکز قائم ہو جائے تو ہم ایک خالص احمدی ماحول پیدا کر سکتے ہیں اور نو جوانوں کی تربیت اچھی طرح کر سکتے ہیں۔اس کے بعد میں پشاور کی جماعت کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں اور افسوس کرتا ہوں کہ آج جمعہ کے دن اتنے آدمی جمعہ پڑھنے کے لیے نہیں آئے جتنے اور نمازوں کی تعداد کے لحاظ سے آنے چاہیں تھے۔حالانکہ یہاں مردان، نوشہرہ، چارسدہ، پشاور اور پشاور کے گردو نواح کے لوگ بھی آئے ہوئے ہیں مگر پھر بھی جمعہ میں آنے والوں کی تعداد بہت تھوڑی ہے۔اس کے مقابلہ میں جب میں کراچی گیا تو وہاں جمعہ میں کراچی شہر کے آدمی اتنے تھے کہ مکان سب کا سب بھر گیا تھا۔میں جماعت کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہماری ترقی دنیوی اسباب سے نہیں ہوگی بلکہ روحانی اسباب سے ہوگی۔علوم ظاہری سے نہیں ہوگی بلکہ علوم باطنی سے ہوگی۔تم میری زندگی کے واقعات کو ہی لے لو۔میری حیثیت کیا تھی؟ میں ایک پرائمری فیل طالب علم تھا۔ہر جماعت میں مجھے رعایتی پاس