خطبات محمود (جلد 29) — Page 124
$1948 124 خطبات محمود بالکل الٹ بات ہے۔جن کے متعلق کہا جاتا تھا کہ وہ چندے کھاتے ہیں وہ دوسروں سے زیادہ چندے دیتے ہیں، جن کے متعلق کہا جاتا تھا کہ وہ لوگوں کا مال لوٹتے ہیں وہ دوسروں سے زیادہ قربانی کرتے ہیں۔انہوں نے کہا میں نے اچھی طرح سوچ لیا ہے اور سمجھ لیا ہے۔میں نے یہ دیکھنا تھا کہ قادیان کے متعلق جو پرو پیگنڈا کیا جاتا ہے کیا وہ سچ ہے۔سو اس جھوٹ کے کھل جانے پر اب کوئی روک نہیں۔آپ میری بیعت لیں۔اس کے بعد میں نے ان کی بیعت لی۔تو قادیان کے متعلق بھیانک خیال ان کے ذہن میں تھا وہ ان کے قادیان آنے اور حالات کو خود دیکھنے سے غلط ثابت ہو گیا اور ان کو ہدایت میسر آگئی۔غرض میل ملاقات سے بیسیوں باتوں کا ازالہ ہو جاتا ہے۔جو باتیں ایک آدمی ہمارے خلاف سنتا رہتا ہے جب وہ حالات اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتا ہے تو خواہ وہ عقائد میں ہم سے کتنا ہی اختلاف کرے ناواجب اختلاف مٹ جاتا ہے۔در حقیقت دیانتداری کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ انسان کسی بات کو بے سوچے سمجھے نہ مانے۔مجھے سینکڑوں آدمیوں کی طرف سے خطوط موصول ہوتے ہیں کہ ہماری بیعت قبول کی جائے مگر میں انہیں یہی جواب دیتا ہوں کہ ابھی نہ کرو، سوچ لو پھر بیعت کرنا تا کل تمہیں دھگا نہ لگے۔یہاں پشاور میں اللہ تعالیٰ نے یہ سامان فرما دیئے کہ میرے دو لیکچر ہو گئے۔لوگوں نے میری باتیں سنیں۔ہم نے اُن کی ضرورتوں کو دیکھا۔اُنہوں نے ہمارے متعلق اندازہ لگایا۔خدا تعالیٰ نے اختلاف سے منع نہیں فرمایا بلکہ ناواجب اختلاف سے منع فرمایا ہے۔وہ اختلاف جو اسلام کے لیے مضر ہو، مسلمانوں کے لیے مضر ہو ایسے اختلاف سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔مجھ پر ایک یہ بھی اثر ہے کہ آئندہ صوبہ سرحد کو پاکستان میں اہمیت حاصل ہو گی۔صوبہ سرحد پہلے مغربی حملہ کی حفاظت کا ذریعہ تھا اب مغرب اور مشرق والوں کی حفاظت کا ذریعہ ہو گا۔میری مدت سے خواہش تھی کہ ہم پشاور میں یا تو مکان کے لیے کوئی زمین خرید لیں یا کوئی بن بنایا مکان خرید لیا جائے تا آئندہ آنے میں سہولت ہو۔اگر بنا بنا یا مکان مل جائے تو آتی دفعہ تیاری کی ضرورت نہیں ہوتی۔جب چاہا آگئے۔مکان کا انتظام ہو تو تیاری میں تو وقت زیادہ نہیں لگتا۔باقی چھوٹی موٹی تیاری کی ضرورت تو ہوتی ہی ہے وہ تھوڑے سے وقت میں کی جاسکتی ہے۔جہاں مسلمان کی خوراک سادہ ہوتی ہے وہاں اُس کا لباس بھی سادہ ہوتا ہے۔ایک جوڑا پہن لیا اور ایک ساتھ لے لیا۔کھانامل گیا تب بھی اور نہ ملا تب بھی