خطبات محمود (جلد 29) — Page 449
خطبات محمود 449 $1948 کہتے ہیں ایک سمندر کا مینڈک کسی کنویں کے مینڈک سے ملا۔دونوں ہم قوم ہونے کی وجہ ی سے ایک دوسرے کے حالات پوچھنے لگے۔کنویں کے مینڈک نے سمندر کے مینڈک سے پوچھا کہ کیا سمندر زیادہ وسیع ہوتا ہے؟ سمندر کے مینڈک نے کہا ہاں سمندر بہت زیادہ وسیع ہوتا ہے۔یہ سن کر کنویں کے مینڈک نے ایک چھلانگ ماری۔مینڈک چھلانگ اچھی مارتا ہے اور گود کر بہت زیادہ فاصلہ پر جا پڑتا ہے۔وہ مینڈک زور سے چھلانگ مار کر جیسے حد ہی کر دی جاتی ہے کہنے لگا کیا سمندر اتنا بڑا ہوتا ہے؟ سمندر کے مینڈک نے کہا یہ تو کچھ بھی نہیں۔کنویں کے مینڈک نے دو چھلانگیں لگائیں اور پوچھا تو کیا اتنا بڑا ہوتا ہے؟ سمندر کے مینڈک نے کہا یہ تو کچھ بھی نہیں۔تب کنویں کے مینڈک نے تین چھلانگیں لگائیں اور پوچھا تو کیا اتنا بڑا ہوتا ہے؟ اور سمجھا کہ اس سے بڑا تو سمندر ہوہی نہیں سکتا۔مگر سمندر کے مینڈک نے پھر بھی یہی کہا کہ یہ تو کچھ بھی نہیں۔اس پر کنویں کے مینڈک نے منہ پھیر کر کہا چل جھوٹا کہیں کا۔میں نہیں مانتا کہ سمندر اتنا بڑا ہوتا ہے۔کنویں کے مینڈک کی ذہنیت میں سمندر کی لمبائی چوڑائی نہیں آسکتی تھی کیونکہ اُس نے سمندر دیکھا ہی نہیں تھا۔وہ اُس کا اندازہ ہی کیا لگا سکتا تھا۔کنویں کے مینڈک اور سمندر کے مینڈک کی ذہنیت میں جتنا فرق ہوتا ہے اُس سے سینکڑوں ہزاروں درجے زیادہ فرق ایک گنوار اور اُس آدمی کی ذہنیت میں ہوتا ہے جو علم ہیئت ، سائنس اور جیالوجی کو جانتا ہے کیونکہ وہ دنیا کے سامنے ایسا نظریہ پیش کرتا ہے جو باوجود وسعت کےاس کے ساتھ یہ قید بھی لگا دیتا ہے کہ اس دنیا کا اندازہ انسانی مقدرت سے باہر ہے خواہ وہ اندازہ حسابی اعداد کے لحاظ سے ہو یا روشنی کے سالوں کی صورت میں ہو۔بہر حال انسان اس کا اندازہ لگانے سے قاصر ہے۔وہ آدمی جو گاؤں میں رہنے کی وجہ سے دنیاوی علوم سے نابلد ہے اور دنیا کے حالات سے ناواقف ہے وہ اس دنیا کا کیا اندازہ لگا سکتا ہے۔سوایسی دنیا جس کا اندازہ باوجود ہزاروں سال کی کوشش کے اور باوجود مختلف ذرائع مہیا ہونے کے جن سے فاصلے اور وقتوں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے انسان نہ کر سکا۔وہ دنیا جس کو انسان ابھی تک نہیں سمجھ سکا، مذہب کہتا ہے کہ اس وسیع دنیا کو خدائے قادر نے کن کے لفظ سے پیدا کیا ہے۔اس وسیع دنیا کو خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں کوئی بھی تو نسبت نہیں۔وہ دنیا جس کی پیدائش کا علم تو الگ رہا، اس کے اسرار کو جاننے کی بات تو الگ رہی اس کی لمبائی اور چوڑائی کو اور اس کے پھیلاؤ کو دریافت کرنے