خطبات محمود (جلد 29) — Page 448
$1948 448 خطبات محمود وقت آدھی رات کا وقت ہے اور اُس وقت کسی کے آنے کا امکان ہی نہیں ہو سکتا تھا۔اسی قسم کے السَّلَامُ عَلَيْكُمُ کا معاملہ میرے ساتھ پہلے بھی بعض دفعہ ہوا ہے مگر نیم خوابی اور غنودگی کی حالت میں۔لیکن اس قسم کا نظارہ میں نے پہلی دفعہ دیکھا ہے۔اُس وقت میں اتنا جاگ رہا تھا کہ میرے واہمہ میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ یہ غیر معمولی نظارہ ہے۔ایک اور موقع پر بھی مجھے یاد ہے کہ میں نیم غنودگی کی حالت میں تھا۔یہ مصری صاحب کے فتنہ کے وقت کی بات ہے اور میں سوچ رہا تھا کہ لوگ کس قسم کے فتنے پیدا کر دیتے ہیں۔ان دوستانہ تعلقات کی وجہ سے جو مجھے مصری صاحب کے ساتھ تھے میری طبیعت پر ایک بوجھ تھا۔میں نے دیکھا کہ ایک چھوٹا سا بچہ میرے پاس دوڑتا ہوا آیا ہے اور السَّلَامُ عَلَيْكُمُ کہہ کے کہتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ہیں۔غرض میرے ساتھ کئی دفعہ ایسا تو ہوا ہے اور بظاہر جاگنے کی حالت میں ہوا ہے لیکن اِس دفعہ السَّلَامُ عَلَيْكُمُ ایسا واضح تھا کہ یہ شبہ ہی نہیں ہو سکتا تھا کہ کسی قسم کی نیند یا غنودگی کی حالت ہو۔اس رات بھی میں بہت دعا کر کے سویا تھا اور اس نظارہ سے خدا تعالیٰ نے اس امر کے لیے جس کے لیے میں نے دعا کی تھی (یا کسی اور امر کے لیے ) حفاظت اور سلامتی کا اشارہ فرمایا ہے۔پھر میں نے اس امر پر غور کیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے اطمینان کے لیے کس طرح اپنے رحم کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ایک لمحہ کے لیے بھی اگر دنیا کو دیکھا جائے تو وہ ہستی جو قرآن کریم سے ہمیں معلوم ہوتی ہے اور جو اس سے پہلی کتب سے معلوم ہوتی ہے اُس کے مقابلہ میں دنیا کی کوئی نسبت ہی نظر نہیں آتی۔اور پھر جب ہم عالم وجود کا سائنٹیفک مطالعہ کرتے ہیں تو درحقیقت وہ اس عالم سے زیادہ ہے جو ہمیں عام حالات میں نظر آتا ہے۔ایک زمیندار جو اپنے گھر سے کہیں باہر نہیں نکلا اور اس نے کوئی سفر نہیں کیا وہ دنیا کے معنے اور سمجھتا ہے اور ایسا شخص جو سیاح ہے اور وہ مختلف ممالک کو اپنی سیر و سیاحت کے دوران میں دیکھ آیا ہے وہ دنیا کے اور معنے سمجھتا ہے۔ایک جغرافیہ دان دنیا کے معنے کچھ اور سمجھتا ہے، ایک علم ہیئت کا جاننے والا دنیا کے کچھ اور معنے سمجھتا ہے۔اور ایک علم ہیئت عالیہ کا جاننے والا دنیا کے بالکل اور معنے سمجھتا ہے۔اور ایک کی علم ہیئت عالیہ کے ساتھ سائنس اور جیالوجی کا جاننے والا دنیا کے معنے بالکل اور سمجھتا ہے۔دونوں کے علم میں اتنی بھی تو نسبت نہیں جتنی ایک کنویں کے مینڈک اور ایک سمندر کے مینڈک کی ذہنیتوں کے درمیان نسبت ہوتی ہے۔