خطبات محمود (جلد 29) — Page 250
$1948 250 خطبات محمود پر مجبور ہیں تو اُسے اُس وقت یقیناً صدمہ پہنچا تھا۔اُس نے فوراً دوسری طرف اپنا منہ کر لیا۔شاید اُس کی آنکھوں میں آنسو تھے جو وہ مجھ سے چھپانا چاہتا تھا اور پھر منہ پھیر کر اُس نے کہا اچھا جاؤ خدا حافظ۔7 غرض مظالم کو دیکھ کر سنگدل سے سنگدل انسان کے اندر بھی نرمی پیدا ہو جاتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ ہجرت کر کے تشریف لے گئے تو آپ کی ایک صاحبزادی یعنی حضرت زینب پیچھے رہ گئی تھی۔آپ نے وہاں سے چند آدمی بھیجے تا انہیں مدینہ لے آئیں۔آپ اُن دنوں حاملہ تھیں۔راستہ میں کسی بد بخت نے آپ کے ہودج کی رسیاں کاٹ دیں جس کی وجہ سے ہودج نیچے گر پڑا اور آپ کو چوٹیں آئیں جن کے نتیجہ میں آپ کا حمل بھی گر گیا اور ایک مہینہ کے بعد اُسی تکلیف کی وجہ سے آپ فوت ہو گئیں۔وہ شخص فوراً دوڑتا ہوا خانہ کعبہ میں آیا۔وہاں رو سائے مکہ بیٹھے ہوئے تھے۔ابوسفیان کی بیوی ہندہ بھی وہاں تھی۔وہ ہندہ جس نے حضرت حمزہ کے ناک اور کان کٹوائے تھے اور آپ کا پیٹ چاک کروایا تھا۔وہ شخص بڑے جوش سے اُن کے پاس جا کر کہنے لگا کہ میں نے آج خوب ہی اچھا کام کیا ہے۔محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بیٹی زینب مدینہ جارہی تھی کہ میں نے اُس کے ہورج کی رسیاں کاٹ دیں اور وہ نیچے گر پڑی اور اُسے بُری طرح چوٹیں آئیں۔اب دیکھو یہ ایک ظلم کی بات تھی۔ہندہ آپ کی شدید ترین دشمن تھی لیکن جب اُس نے یہ بات سنی تو فوراً کھڑی ہو گئی اور کہنے لگی اے مکہ والو! کیا تم میں اب کوئی شرافت باقی نہیں رہی کہ پہلے تو تم عورتوں پر ہاتھ نہیں اُٹھایا کرتے تھے اور اب تم نے عورتوں پر بھی ہاتھ اُٹھانا شروع کر دیا ہے۔8 غرض مظالم صداقت کو دبایا نہیں کرتے بلکہ اُسے بالا کیا کرتے ہیں۔دنیا کے سارے لوگ گندے نہیں ہوتے۔اُن میں شریف بھی ہوتے ہیں۔بہادر اور دلیر بھی ہوتے ہیں۔ایسے لوگ آگے آجاتے ہیں اور انہی کی الہی سلسلوں کو ضرورت ہوا کرتی ہے۔یہی دلیر لوگ قوم کو بڑھانے اور مذہب کو ترقی دینے کا موجب بنتے ہیں کیونکہ جو شخص دین کی راہ میں جرات دکھاتا ہے اور جان تک کی بھی پروا نہیں کرتا خدا خود اس کا رعب پیدا کر دیتا ہے اور شریف اور بہادر آدمی مذہب کی طرف مائل ہو جاتے جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا ہے آج تک کوئی قوم پھولوں کی سیج پر چل کر کامیاب نہیں ہوئی۔ہمیشہ اُسے کانٹوں پر سے گزرنا پڑا ہے۔سو آپ لوگ اپنے اندر ایک نیک تبدیلی پیدا کریر