خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 249 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 249

$1948 249 خطبات محمود نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے لیے انعام مقرر کیا ہوا تھا آپ کا ایمان لانا صحابہ کے لیے ایک عجیب چیز تھی۔صحابہ نے جوش میں آکر اللہ اکبر کا نعرہ مارا۔صحابہ کہتے ہیں کہ اس سے پہلے ہمیں کبھی نعرہ تکبیر بلند کرنے کی جرات نہیں ہوئی تھی۔ہم ڈرتے تھے کہ کہیں کفار ہم پر حملہ نہ کر دیں۔حمزہ پہلے ہی مسلمان ہو چکے تھے اور اب حضرت عمرؓ بھی مسلمان ہو گئے تو ہم نے خیال کیا کہ اب ہمیں چُھپ کر بیٹھنے کی ضرورت نہیں۔6 تو دیکھو یہ دونوں پہلوان مظالم کی وجہ سے ہی اسلام میں داخل ہوئے تھے۔دلیلیں تو انہوں نے پہلے بھی سنی ہوئی تھیں۔قرآن کریم پہلے بھی سنا ہوا تھا مگر پہلے اُن پر اثر نہیں ہوتا تھا۔ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتے تھے۔مگر جب دیکھا کہ اسلام با وجود مخالفت کے بڑھ رہا ہے اور ہم بلا وجہ مسلمانوں پر ظلم کر رہے ہیں تو اُن کی آنکھیں کھل گئیں۔حضرت عمرؓ کے ساتھ پہلے بھی ایک واقعہ اسی رنگ کا ہو چکا تھا۔ایک صحابیہ کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دی تو ہم رات کو نکلتے تھے تا کہ کفار کو ہمارا علم نہ ہو سکے اور وہ ہمیں ٹوٹ نہ لیں۔ہم سحری کے وقت سامان باندھ رہے تھے کہ اتفاقاً حضرت عمرؓ بھی پھرتے پھراتے وہاں آگئے۔حضرت عمررؓ شاید اُس صحابیہ کے رشتہ دار تھے یا ویسے ہی واقف تھے۔احادیث میں تعلقات کا ذکر نہیں آتا۔وہ صحابیہ کہتی ہیں کہ حضرت عمرؓ نے مجھ سے مخاطب ہو کر کہا بی بی ! تم کہاں جا رہی ہو؟ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم وطن چھوڑ کر کہیں باہر جارہی ہو۔انہوں نے کہا وطن کیوں نہ چھوڑیں وطن کس کو عزیز نہیں ہوتا پھر مکہ جیسا وطن۔مگر تم ہمیں یہاں آزادی سے عبادت نہیں کرنے دیتے۔اس لیے باوجود اس کے کہ مکہ ہمیں بہت عزیز ہے ہم مجبور ہیں کہ یہاں سے نکل جائیں۔حضرت عمرؓ اس وقت کا فر ہی تھے مگر وہ صحابیہ بیان کرتی ہیں کہ جب میں نے حضرت عمرؓ سے یہ کہا کہ ہم وطن اس لیے چھوڑ رہے ہیں کہ تم یہاں ہمیں آزادی سے عبادت نہیں کرنے دیتے تو میری آواز میرے خاوند نے بھی سن لی اور اُس نے بعد میں پوچھا کہ یہ کون شخص تھا جس سے تم باتیں کر رہی تھیں؟ میں نے کہا یہ عمرہ تھا۔اور پھر میں نے بتایا کہ میں نے اُسے کیا کہا ہے۔میرے خاوند نے کہا عمر بڑا سنگدل آدمی ہے، اُس پر کسی بات کا اثر نہیں ہوتا۔میں نے کہا آج تو اُس پر اثر تھا۔جب میں نے اُسے کہا کہ تم ہمیں آزادی سے یہاں عبادت کرنے نہیں دیتے اس لیے ہم مکہ جیسے عزیز وطن کو چھوڑنے