خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 251 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 251

$1948 251 خطبات محمود تبلیغ کو وسیع کریں۔آپ نے بیعت کرتے وقت یہ وعدہ کیا تھا کہ آپ دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے۔دین کو دنیا پر مقدم آپ اسی صورت میں رکھ سکتے ہیں جب کہ آپ زیادہ وقت تبلیغ میں صرف کریں۔اگر تم پر ظلم ہوتے ہیں، لوگ تم پر سختیاں کرتے ہیں، تمہاری تجارتیں اور نوکریاں چُھٹ جاتی ہیں تو تم مت پر وا کرو۔صحابہ کا جب آپ لوگ نام لیتے ہیں تو آخر میں رَضِيَ اللهُ عَنْهُ کا لفظ بڑھا دیتے ہیں۔یہ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ کے الفاظ صحابہ کے ناموں کے ساتھ کیوں چل رہے ہیں؟ اس لیے کہ انہوں نے ابتدائی وقت میں قربانیاں کیں اور اس درخت کے بیج بوئے جس کا پھل آج ہم کھا رہے ہیں۔اگر وہ اس درخت کا بیج نہ بوتے اور اس کو اپنے خونوں سے نہ سینچتے تو آج ہم اسلام کے نور سے منور نہ ہوتے۔چونکہ صحابہؓ نے ایک ایسے زمانے میں جب اسلام لانے کی وجہ سے ہر شخص واجب القتل قرار دیا جاتا تھا نڈر ہو کر تبلیغ کی۔اس لیے جب ہم اُن کا نام لیتے ہیں تو ساتھ ہی رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ہیں۔آپ لوگوں کا بھی یہ دعوی ہے کہ آپ کو بھی وہی مقام حاصل ہے جو صحابہ کو حاصل تھا۔آپ بھی امید کرتے ہیں کہ آپ کے ناموں کے ساتھ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ کے الفاظ لگیں اور اگر آپ امید نہیں بھی کرتے تب بھی خدا تعالیٰ نے آپ کے لیے یہ انعام مقدر کر دیا ہے کہ آپ کے ناموں کے ساتھ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ کے الفاظ کہے جائیں اور یہ اُس وقت ہو سکتا ہے جب آپ صحابہ کی طرح دیوانہ وار تبلیغ کے لیے کھڑے ہو جائیں اور اپنی کسی چیز کی بھی پروا نہ کریں۔رات دن آپ میں لگا دیں۔آپ کے اندر ہمدردی اور درد اس قدر پایا جائے کہ آپ کا مخاطب بھی یہ محسوس کرنے لگ جائے کہ آپ اُس کی خاطر مرے جا رہے ہیں۔اگر آپ اپنے اندر ایسی تبدیلی پیدا کر لیں تو پھر احمدیت یقینا پھیلے گی۔اور وہی لوگ جو آج آپ کو پتھر مارتے ہیں کل آپ کے سامنے دو زانو ہو کر بیٹھیں گے اور کہیں گے ہم تو آپ کو پتھر نہیں مارا کرتے تھے۔جیسے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ جب مسلمانوں کا کوئی لشکر مدینہ سے باہر جاتا تو منافق کہتے تھے کہ یہ بیوقوف ہیں۔یونہی اپنی جانیں ضائع کرنے جارہے ہیں۔مگر وہی لشکر جب فاتح ہو کر واپس آتا تو وہ منافق باہر نکل کر اُس کے ساتھ ہو جاتے اور کہتے ہم بھی آپ کے ساتھ ہیں۔مالِ غنیمت میں ہمارا بھی حصہ ہونا چاہیے۔یہ لوگ بالکل مردہ کی حیثیت رکھتے ہیں اور اُن کی کوئی حقیقت نہیں۔اگر کسی کی کوئی حقیقت ہے تو اُن لوگوں کی جو قربانیوں کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر توکل کر کے اپنے فرض کو ادا کرتے جاتے ہیں۔