خطبات محمود (جلد 29) — Page 300
1948ء 300 خطبات محمود میں غریب آدمی بھوکا مرے گا مگر چندہ با قاعدہ دے گا ۔ یہ فرق آخر کیوں ہے؟ اور کیوں غریب اور کمزور چندوں میں باقاعدہ ہوتا ہے اور امیر آدمی چندوں میں سست بلکہ بعض دفعہ چندوں کا تارک ہوتا۔ ہوتا ہے؟ یہ فرق اسی لیے ہے کہ تم نے اس بڑے کہلانے والے کو خدا بنا لیا ہے۔ تم نے اس کے دل میں یہ خیال پیدا کر دیا ہے کہ وہ بہت بڑا آدمی ہے حالانکہ جماعت میں اس کی ایسی ہی حیثیت ہے جیسے ایک احمدی چوڑ ھے اور چمار کی ہوتی ہے مگر تم نے سفارشوں کے ذریعہ سے اُس کے دماغ کو پراگندہ کر کے بے ایمان کر دیا جس کی وجہ سے جماعتی ترقی رک گئی ہے اور اب جماعت اس سے اوپر ترقی نہیں کر رہی ۔ انبیاء کی جماع جماعتیں جہاں روحانیت میں ترقی کرتی ہیں وہاں اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ دنیوی لحاظ سے بھی اُن کو زیادہ سے زیادہ عروج حاصل ہوتا چلا جاتا ہے مگر جب اوپر کی چھت ہی ناکارہ ہو تو نیچے والا او پر نہیں اٹھ سکتا کیونکہ ناکارہ چھت اس کے راستہ میں روک بن جاتی ہے۔ ایک وقت تھا جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں کوئی تحصیلدار بھی احمدی ہو جاتا تو سمجھا جاتا کہ بڑا کمال ہو گیا ہے۔ پھر جماعت نے روحانیت میں ترقی کی اور اوپر کے عہدے دار ہماری جماعت میں شامل ہونے شروع ہوئے۔ پھر ایسا زمانہ آیا کہ تحصیلداروں کے شامل ہونے کی کوئی اہمیت ہی نہ رہی۔ پھر جماعت کے لوگ روحانیت میں اور اوپر نکلے اور پھر اور اوپر نکلے پھر اور اوپر نکلے۔ اگر ایمان اسی طرح قائم رہتا اور روحانیت میں جماعت ترقی کرتی چلی جاتی تو بادشاہوں تک بھی یہ سلسلہ چلا جاتا۔ اگر بادشاہ بھی اس سلسلہ میں داخل ہوتے تو وہ سمجھتے کہ جماعت کے مقابلہ میں ہم ایک حقیر فرد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مگر جب جماعت نے بادشاہوں سے بہت نچلے درجہ والوں کو ہی خدا بنا لیا تو خدا نے کہا تمہاری ترقی کا اتنا ہی میدان تھا۔ اس سے آگے اب تم ترقی نہیں کر سکتے کیونکہ جب تم نے ان کو ہی خدا بنالیا ہے تو جب اس سے بھی اوپر کے لوگ سلسلہ میں داخل ہوئے تو پھر تم ان کو کیا بناؤ گے؟ پس یہ ایک غلط طریق ہے جو اختیار کیا گیا ہے اور جماعت کی آئندہ ترقیات کے راستہ میں ایسے لوگوں نے سخت روکیں پیدا کر دی ہیں۔ میں ایسے لوگوں کو متنبہ کرتا ہوں کہ وہ اپنی اصلاح کریں۔ میں نہیں جانتا کہ باقی لوگ اُن کو خدا بناتے ہیں یا خدا کے قریب قریب سمجھتے ہیں مگر میں تو ان کو ایک ادنیٰ سے ادنی احمدی سے زیادہ وقعت نہیں دیتا۔ اگر انہوں نے اپنی اصلاح نہ کی تو خدا تعالیٰ کی توفیق اور اسی کی مدد سے میں ایسے لوگوں کو اپنی جماعت میں سے اُسی طرح نکال دوں گا جس طرح دودھ کے