خطبات محمود (جلد 29) — Page 301
$1948 301 خطبات محمود پیالہ میں سے مکھی نکال کر پھینک دی جاتی ہے۔ہر احمدی خواہ وہ کتنے بڑے عہدہ پر فائز ہو جماعت کا ایک فرد ہے اور اس کو جماعتی تنظیم کے ایک پرزہ کے طور پر کام کرنا پڑے گا۔اگر وہ اس طرح کام کرنے کے لیے تیار نہیں تو ہمیں اس کی ہرگز ضرورت نہیں۔اگر جماعت کے منافق اسے خدا بناتے ہیں تو صرف منافق ہی اسے خدا بناتے ہیں مومن اسے خدا نہیں سمجھتے۔اور عزت وہی ہوتی ہے جو خدا اور اس کے رسول اور اس کے مومن بندوں کی طرف سے حاصل ہوتی ہے۔بہر حال میں ایسے منافقوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ تم اپنی اصلاح کرو تم نے خدا کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔تم نے انسانوں کو خدا بنا لیا ہے۔مثلاً تمہاری زبانوں سے بار بار یہ نکلتا ہے کہ چودھری ظفر اللہ خان ہی فلاں کام کر سکتے ہیں حالانکہ سلسلہ کے کام خدا تعالیٰ کرتا ہے۔چودھری ظفر اللہ خان یا ای اور کسی نے کیا کرنے ہیں۔اور اگر وہ تمہارا ذاتی کام ہے تو سلسلہ کے پاس کیوں آتے ہو؟ تم اپنی نفسانی خواہشات کو اپنے پاس رکھو۔تم سلسلہ کو کیوں تقوی کے درجہ سے گرانے کی کوشش کرتے ہو۔سلسلہ کے افراد کی بڑائی ان کے تقوی اور ان کے اخلاص سے ہے۔جو سلسلہ کا اپنے آپ کو ادنیٰ خادم سمجھتا ہو وہ بڑا ہے۔جو نہیں وہ ہماری نگاہوں میں چھوٹا ہے۔مگر تم اپنی امیدوں کا آماجگاہ بنا کر اسے ابتلا میں ڈالنا چاہتے ہو اور اس کے دل کو تکبر سے بھرنا چاہتے ہو اور اس کو بے ایمان بنانا چاہتے ہو۔خوب سمجھ لو! کہ سلسلہ کو ان لوگوں کی تو کیا بڑے بڑے بادشاہوں کی بھی پروا نہیں ہوسکتی۔آخر یہ لوگ جن کو تم بڑا سمجھتے ہو کیا ان سے بڑے بڑے بادشاہ دنیا میں موجود نہیں؟ پھر ہم نے ان کی کیوں پروا نہیں کی اور کیوں ہم نے ان سے بعض مواقع پر اختلاف کیا؟ اسی لیے کہ ہم سمجھتے تھے کہ سچائی کو کسی صورت میں ترک نہیں کیا جاسکتا۔اگر وہ اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہیں تو بے شک سمجھیں ہمیں سچائی اور صداقت کے مقابلہ میں ان کی کوئی پروا نہیں ہو سکتی۔جب ہماری یہ حالت ہے تو یہ کتنی متضاد بات کی ہے کہ ایک طرف تو ہم بادشاہوں سے لڑنے کے تیار ہو جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اگر وہ سچائی پر قائم نہیں تو ہمیں ان کی کوئی پروا نہیں۔دوسری طرف نہایت چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہماری جماعت کے بعض افراد مشر کا نہ افعال میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور ان آدمیوں کی طرف ان کی نظر اٹھنی شروع ہو جاتی ہے جو دنیوی بادشاہوں کے مقابلہ میں کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتے اور وہ خیال کرتے ہیں کہ انہی لوگوں کے ساتھ سلسلہ کی ترقی ہے۔نہ ان لوگوں کیساتھ سلسلہ کی ترقی ہے اور نہ سلسلہ کو ان کی کوئی پروا ہے۔