خطبات محمود (جلد 29) — Page 299
$1948 299 خطبات محمود رات اور دن دوسروں کے دروازوں پر پھرتا رہے گا اُس کی اُن کے دلوں میں کیا عزت باقی رہ جائے کی گی۔جب وہ دیکھیں گے کہ اس کا کام ہی یہ ہے کہ لوگوں کے لیے مختلف افسروں کے دروازوں پر پھرتا رہے تو وہ سمجھیں گے کہ یہ بیہودہ آدمی ہے اور ان کی نگاہ میں وہ ذلیل ہو جائے گا۔گویا دو ہی کام ہیں جو وہ کر سکتا ہے اور دونوں کا نتیجہ اچھا نہیں۔یا تو سفارش کرے گا نہیں ، اگر وہ سفارش نہیں کرے گا اور اُس کے دل میں یہ خیال پیدا ہو گا کہ میں جماعت کے افراد کا کیوں کام کروں؟ تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جماعتی محبت کے احساس سے اُس کا دل خالی ہو جائے گا۔اور اگر وہ سفارش کرے گا تب بھی اس کے دل میں یہ احساس پیدا ہو گا کہ جماعت کی وجہ سے میں ذلیل ہورہا ہوں۔اس صورت میں بھی اس کا ایمان کمزور ہو جائے گا۔یہ دونوں صورتیں ایسی ہیں جو خطرناک ہیں اور سفارش کرنے والے کو بھی بے ایمان بنانے والی ہیں۔ایک طرف سفارش کرانے والا خدا تعالیٰ پر توکل کو ترک کرتا ہے اور اُس کی محبت اُس کے دل سے اُڑ جاتی ہے۔دوسری طرف جس کے پاس سفارش لے جاتا ہے وہ بھی اس کے نتیجہ میں بدعمل ہو جاتا ہے۔گویا دونوں ہی بے دین بن جاتے ہیں۔پھر تیسرا خطرناک نتیجہ اس کا یہ نکلتا ہے کہ وہ سفارش کرے یا نہ کرے۔اُس کے دل میں کبر پیدا ہونے لگتا ہے۔جس آدمی کے پاس تم سفارش کے لیے جاتے ہو اور کہتے ہو کہ میرا کام تم کرو، تمہارے بغیر اور کوئی شخص میرا یہ کام نہیں کرسکتا۔اس کا دوسرے الفاظ میں یہ مطلب ہوتا ہے کہ تم ہی خدا کے قائم مقام ہو۔اور یہ چیز ایسی ہے جو اُس کے دل میں کبر پیدا کر کے اُس کے ایمان کو ضائع کر دیتی ہے۔وہ دل میں پھولتا چلا جاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اب میں اتنا بڑا ہو گیا ہوں کہ میرے بغیر لوگوں کا کام ہی نہیں چل سکتا اور آہستہ آہستہ وہ اپنا مقام ایسا سمجھنے لگتا ہے جو شاید نبی کو بھی حاصل نہیں ہوتا۔غرض یہ ایک نہایت ہی گندی چیز ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ اس وجہ سے جماعت کے لوگوں کی خدا تعالیٰ کی طرف سے توجہ ہٹ رہی ہے اور جماعت میں جو بڑے آدمی ہوتے ہیں اُن کی بھی دین کی طرف رغبت کم ہوتی چلی جاتی ہے اور وہ دینی کاموں میں اپنی حیثیت کے مطابق حصہ نہیں لیتے۔وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ایک بڑے مدبر ہوکر یا ایک بڑے افسر ہوکر یا ایک بڑے جرنیل ہو کر یا گورنمنٹ کے ایک سیکرٹری ہو کر ہر قسم کی جماعتی پابندیوں سے آزاد ہو گئے ہیں اور اب ہم کو دین کے لیے کسی قسم کی قربانی کی ضرورت نہیں۔سو میں سے نوے بڑے آدمی ایسے ہیں جو چندہ ادا نہیں کرتے اور دس فیصدی جو چندہ دیتے ہیں وہ بھی پورا چندہ نہیں دیتے۔اس کے مقابلہ