خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 278 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 278

$1948 278 خطبات محمود پیدا ہوتی ہے اور جب انسان کا بیج ڈالتے ہیں تو اس سے انسان پیدا ہوتے ہیں۔جب مسلمانوں نے ایران پر حملہ کیا تو بادشاہ نے اپنے افسروں کو بلایا اور کہا کہ تم ان کا کیا مقابلہ کرتے ہو؟ یہ تو ذلیل ترین وجود ہیں انہیں یو نہی غلطی لگ گئی ہے۔تم ان کو میرے پاس بلالا ؤ میں وہ انہیں کچھ روپے دے دیتا ہوں اور وہ واپس چلے جائیں گے۔بادشاہ نے اپنے کمانڈر کو حکم دیا کہ مسلمان لشکر کے کمانڈر کو کہلا بھیجے کہ وہ ہمارے پاس اپنا ایک وفد بھیجے۔اس نے ایسا ہی کیا اور مسلمانوں۔کا ایک وفد آ گیا جس کے لیڈر ایک صحابی تھے۔وہ ہاتھوں میں نیزے پکڑے ہوئے شاہی قالینوں پر سے بغیر جوتی اتارے گزر گئے۔اس پر بادشاہ کو اور بھی یقین ہو گیا کہ یہ وحشی لوگ ہیں۔بادشاہ نے اس وفد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تم جاہل لوگ ہو۔تمہیں سلطنت سے کیا غرض ؟ تمہیں بادشاہت سے کیا واسطہ؟ تم لوگوں میں وہ گناہ اور عیب پائے جاتے ہیں کہ جنہیں دیکھ کر ایک شریف انسان اپنی گردن نیچے کر لیتا ہے۔تم ڈاکے مارتے ہو، گو ہیں کھاتے ہو، مُردار کھاتے ہو۔میں تمہیں کچھ روپیہ ے دیتا ہوں وہ لے لو اور واپس چلے جاؤ۔وفد کے سردار نے جو ایک صحابی تھے جواب دیا کہ جو کچھ تم کہتے ہو وہ ٹھیک ہے۔ہم ایسے ہی تھے بلکہ اس سے بھی بدتر۔مگر خدا تعالیٰ نے ایک رسول بھیجا۔اس نے ہماری کایا پلٹ کر رکھ دی۔اب ہم دنیا کو پڑھانے کے لیے باہر نکلے ہیں۔دنیا میں انصاف اور عدل کو قائم کرنے کے لیے باہر نکلے ہیں۔اس کے مقابلہ میں روپیہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔روپیہ تو ایک حقیر چیز ہے۔بادشاہ کو اس جواب پر غصہ آ گیا۔اس نے اپنے ایک نوکر کو حکم دیا کہ وہ مٹی کی ایک بوری بھر لائے۔وہ نوکر مٹی کی ایک بوری بھر لایا۔بادشاہ نے وفد کے سردار صحابی کو آگے بلایا اور کہا جھک جاؤ۔وہ اگر چاہتے تو انکار بھی کر سکتے تھے مگر وہ نہایت ادب سے آگے آگئے اور جھک گئے۔بادشاہ نے مٹی کی بوری ان کے سر پر رکھوا دی اور کہا جاؤ اس کے سوا تمہیں کچھ نہیں ملے گا۔جیسے پنجابی میں کہتے ہیں کچھ کھاؤ“۔اس بادشاہ نے بھی کہا جاؤ میں تمہیں ذلیل کرتا ہوں۔وہ صحابی اگر چاہتے تو مٹی کی بوری سر پر نہ رکھواتے مگر وہ جان بوجھ کر آگے آئے اور جھک گئے اور اس طرح بوری کو اپنے سر پر رکھوالیا۔مشرک کا دل کمزور ہوتا ہے۔موحد ہی ہوتا ہے جس کا دل دلیر ہوتا ہے۔مشرک تو چھوٹی سے چھوٹی بات سے بھی ڈر جاتا ہے۔وہ ہوا کو بھی خدا سمجھتا ہے، پہاڑ کو بھی خدا سمجھتا ہے، پتھر کو بھی خدا سمجھتا ہے۔وہ ہر ایک چیز سے ڈرتا ہے۔اس صحابی نے جب مٹی کی بوری سر پر رکھوالی تو اپنے