خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 279 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 279

$1948 279 خطبات محمود ساتھیوں سے کہا آجاؤ بادشاہ نے اپنی ایران کی زمین خود اپنے ہاتھ سے ہمارے سپرد کر دی ہے۔اس فقرہ کا اس صحابی کے منہ سے نکلنا ہی تھا کہ بادشاہ گھبرا گیا۔اس نے اپنے درباریوں کو حکم دیا کہ جلدی سے بوری واپس لے آؤ۔مگر مسلمان گھوڑوں پر سوار ہو کر دور نکل چکے تھے۔5 بظاہر تو بادشاہ نے اس صحابی کے سر پر مٹی رکھی تھی اور ذلیل کیا تھا لیکن واقعہ یہی ہوا کہ بادشاہ نے خود ہی اپنے ملک کو مسلمانوں کے حوالے کر دیا۔اسلام انسانی قربانی کو جائز نہیں سمجھتا۔پرانے زمانہ میں لوگ اپنی اولا د کو قربان کر دیتے تھے ، اسے ذبح کر دیتے تھے مگر اسلام نے یہ نہیں کہا۔اسلام اپنے ہاتھ سے انسانی قربانی دینے کو جائز نہیں سمجھتا۔خدا تعالی دشمنوں کے ہاتھوں سے وہ قربانی کرواتا ہے۔اس کے اختیار میں یہ ہے کہ وہ جب چاہے قربانی لے اور جس کی چاہے لے لیکن جب وہ چاہتا ہے کہ دنیا میں کوئی تغیر پیدا ہوتو وہ لوگوں میں تحریک کر دیتا ہے اور وہ اس کی تدبیر کا شکار ہو جاتے ہیں۔پس یہاں کے لوگوں نے ایک احمدی کو شہید کر کے بلوچستان میں احمدیت کا بیج بو دیا ہے۔اب اس کا مٹانا ان کے اختیار میں نہیں رہا۔دنیا کی کوئی طاقت اسے مٹا نہیں سکتی۔یہ پیج بڑھے گا اور ترقی کرے گا اور ایک وقت ایسا آئے گا کہ وہ ایک تناور درخت بن جائے گا اور تمام علاقہ پر چھا جائے گا۔اب سارے مولوی بھی زور لگا لیں وہ اسے مٹا نہیں سکتے۔خدا کی طاقتوں کا مقابلہ کرنا کس کے اختیار میں ہے۔خدا تعالیٰ کی تدبیریں جدا گانہ ہوتی ہیں۔وہ اپنے کاموں میں نرالا ہے، وہ اپنی حکمتوں میں عجیب ہے۔اس کی گنہ کو پہنچنا انسانی عقل کے اختیار میں نہیں۔پس خدا تعالیٰ نے میرے اس سفر کو جس کی غرض یہاں رمضان کا گزارنا تھا۔اگر چہ یہاں کوئی زیادہ سردی نہیں۔اگر ہم مری چلے جاتے تو شاید اس سے بہتر رہتا ، ایک دینی سفر بنا دیا اور اس کو ایک خاص اہمیت بخش دی۔میں سمجھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی بادشاہت کے دن اب قریب ہیں۔میں خدا تعالیٰ کی انگلی کو اٹھا ہوا دیکھتا ہوں۔میں اس کے اشارے کو نمایاں ہوتا ہوا پاتا ہوں۔میں خدا تعالیٰ کے منشا کو اس کے فضل سے پڑھ رہا ہوں اور سن رہا ہوں اور میں یہ جانتا ہوں کہ اب یہ صوبہ ہمارے ہاتھوں سے نکل نہیں سکتا۔یہ ہمارا ہی شکار ہو گا۔دنیا کی ساری قومیں مل کر بھی ہم سے اب یہ علاقہ چھین نہیں سکتیں۔یہی صوبہ نہیں بلکہ ہمیں سارے ملک ہی ملنے والے ہیں۔دنیا ہمیں حقارت کی نظروں سے دیکھتی ہے مگر دنیا نے خدا تعالیٰ کے ماموروں اور ان