خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 193 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 193

$1948 193 خطبات محمود ہم انہیں دیں وہ مان لیں۔گویا دوسرے لوگ وحشی اور جانور بن جائیں گے اور ان کی انسانی حیثیت باقی نہیں رہے گی اور ہم اُن پر ایسے چھا جائیں گے جیسے ٹڈی دل کھیتوں پر چھا جاتا ہے۔کیا یہ وہی دنیا ہے جس کا قرآن مجید اپنے مومن بندوں سے وعدہ کرتا ہے؟ اور کیا یہی وہ دنیا ہے جس میں خدا کی بادشاہت قائم ہوگی؟ یہ خدا کی بادشاہت نہیں شیطان کی بادشاہت ہوگی۔غرض جب ہم کہتے ہیں کہ احمدیت دنیا پر غالب آجائے گی تو یقینا اس کے یہ معنی نہیں ہو سکتے کہ ہمیں ایسی طاقت حاصل ہو جائے گی کہ سب لوگ چوہڑوں اور چماروں کی طرح ہمارے ڈنڈے کے ڈر سے ہمارے سامنے ہاتھ جوڑتے پھریں گے۔اگر ہم ایسا کریں گے تو ہم یقیناً ظالمانہ حکومت کو قائم کرنے والے ہوں گے۔ہم یقینا جابرانہ حکومت کو قائم کرنے والے ہوں گے۔ایسی حکومت جو نمرود اور شداد کی حکومت کو بھی مات کرنے والی ہوگی مگر خدا تعالیٰ اپنے رسولوں کو اس غرض کے لیے دنیا میں نہیں بھیجا کرتا۔دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ کوئی ایسی بیماری پڑ جائے جس سے سارے غیر احمدی مر جائیں اور اسی طرح سارے ہندو، سکھ اور غیر مذاہب والے مر جائیں۔اگر ایسا ہو تو ہم تو بلوچستان کو بھی آباد نہیں کر سکتے جس کی آبادی بہت ہی کم ہے۔ہمارے احمدی دو تین لاکھ ہیں مگر بلوچستان کی آبادی دس بارہ لاکھ کے قریب ہے۔اگر ساری قومیں مر جائیں اور احمدی ہی زندہ رہ جائیں تو یہ بلوچستان بھی ویران نظر آنے لگ جائے گا۔اگر ہم کہیں کہ چلو باقی بلوچستان چھوڑ دو ہم صرف پاکستانی بلوچستان کو ہی آباد کر لیں گے تو پاکستانی بلوچستان کی آبادی بھی چار لاکھ ہے۔اس میں بھی صرف دو تین لاکھ احمدی آباد ہوں گے باقی سارا بلوچستان خالی پڑا ہوگا۔اسی طرح سب کا سب چین، جاپان، انڈونیشیا، انگلستان ، فرانس، امریکہ اور دوسرے ممالک بالکل ویران اور اُجاڑ ہوں گے۔شیر اور چیتے ہر جگہ پھر رہے ہوں گے اور ہم دنیا کے ایک گوشہ میں بیٹھے اس بات پر خوش ہوں گے کہ ہم نے ساری دنیا فتح کر لی۔مگر کیا یہ مقصد کوئی اعلیٰ درجہ کا مقصد ہے؟ پھر کیا چیز رہ جاتی ہے جس سے ہم دنیا کو فتح کر سکتے ہیں؟ وہ یہی چیز ہے کہ تم لوگوں کو احمدی بناؤ اور احمدیت کی تبلیغ اپنے پورے زور کے ساتھ کرو۔یہی ایک معقول چیز ہے جو روحانی بھی ہے اور جسمانی فائدہ بھی اس سے حاصل ہوتا ہے اور جس سے دنیا کو حقیقی معنوں میں سکھ اور آرام میسر آ سکتا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ ہم نے اس کے لیے کیا کوشش کی ہے؟